• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فلسطینی مزاحمت کاروں نے راڈار پر نظر نہ آنے والا جاسوس طیارہ تیار کر لیا؟

جمعرات 29-11-2012
in فلسطین
0
plf fighter
0
SHARES
0
VIEWS
 
 

فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی نومبر کے وسط میں مسلط کی گئی آٹھ روزہ جنگ ختم ہو جانے کے باوجود اسرائیلی عسکری اور سیاسی حلقوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی دفاعی استعداد  موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

فلسطینیوں نے اپنے دشمن کے خلاف مقابلے اور لڑائی کا آغاز اگرچہ دستی ہتھیاروں اور غلیلوں سے کیا لیکن اب یہ سفر بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ دوسرے مرحلے میں فلسطینیوں نے بندوق کا استعمال کیا اور اس کے بعد راکٹ استعمال کیے گئے۔ تازہ جنگی معرکے میں فلسطینی مجاہدین نے اب تک کے دورطویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ استعمال کرکے صہیونی دفاعی تجزیہ نگاروں اور صہیونی حکام کو بھی ششدر کر کے رکھ دیا ہے، لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوگیا بلکہ اب بحث یہ جاری ہے کہ آیا فلسطینیوں کے پاس اسرائیلی راڈار پردکھائی نہ دینے والا  جاسوس طیارہ بھی موجود ہے یا نہیں۔ کیونکہ اسرائیلی خفیہ اداروں  نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینیوں نے ایک ایسا چھوٹا جاسوس طیارہ حاصل کر لیا ہے جو اسرائیلی راڈاروں پر نظر نہیں آتا۔ اس کے ذریعے جاسوسی بھی کی جاسکتی ہے اور یہ طیارہ اسرائیلی جنگی جہازوں کو نشانہ بھی بنا سکتا ہے۔

 
فلسطینی مزاحمت کاروں کی ایک دوسری دفاعی صلاحیت ان کا سائبر اسپیس میں اسرائیل کے ساتھ مد مقابل آنا بھی شامل ہے۔ حالیہ جنگ میں فلسطینیوں نے سائبر کی دنیا میں صہیونی حکومت اور اس کے اہم اداروں کی ویب سائیٹس کو نشانہ بنایا اور انہیں ہیک کیا گیا ہے ماضی میں ایسے سائبرحملے کہیں بھی نہیں کیے گئے ہیں۔
 
مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کی تلاش میں ناکامی
 
اسرائیلی فوج اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث الگ سے بھی چل رہی ہے کہ چودہ سے اکیس نومبر تک جاری رہنے والی اس جنگ میں اسرائیلی فضائیہ مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کی نشاندہی اور ان کی تلاش کے لیے کوشاں رہی۔ اس مقصد کے لیے انٹیلی جنس کے ذرائع بھی استعمال کیے گئے لیکن فلسطینی مزاحمت کار جس تزویراتی حکمت عملی کے تحت اپنے ٹھکانے تبدیل کرتے رہے وہ اسرائیلی فوجیوں کے لیے حیران کن امر ہے۔ 
 
اسرائیلی فوج کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے اپنی مصدقہ معلومات کی بنیاد پر جہاں جہاں بھی اہداف کو نشانہ بنایا وہ یہ سمجھ کرکے یہاں پرفلسطینی مزاحمت کار موجود ہیں لیکن حملے کے بعد معلوم ہوتا کہ یا تو وہاں پر عام شہری تھے یا وہاں سرے سے کچھ تھا ہی نہیں۔ یوں اسرائیلی انٹیلی جنس کو اپنی اس ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑا کہ وہ جس جگہ کو اپنا ہدف سمجھ کر گولہ باری کرتے رہے ہیں وہ حقیقی معنوں میں فلسطینیوں کے مراکز نہیں تھے۔ اس کے مقابلے میں فلسطینی اپنی جنگی حکمت عملی کے تحت اپنے مراکز اور ٹھکانے نہایت سرعت کے ساتھ تبدیل کرتے اور دشمن کو چکمہ دے کر ان کے اہداف کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
اس کے مقابلے میں فلسطینیوں کی جانب سے جن اہداف کو نشانہ بنایا اور ان پر راکٹوں سے حملے کیے وہ اپنے ہدف پرلگے، فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے نشانے بہت کم ایسے تھے جو خطا ہوئے ہوں۔ ان میں اہم ترین اہداف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کے اڈے تھے۔ مثلا حتسریم، بلماحیم، تسلیم فضائی اڈہ، فوجی اڈہ نمبر8200، انٹیلی جنس مرکز تل ابیب، زیکیم فوجی اڈہ اور مشرقی خان یونس میں اسرائیلی راڈار سسٹم کو فلسطینیوں کی جانب سے راکٹ حملوں کے ذریعے درست انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے اسرائیلی فوج پر ہونے والے براہ راست حملے بھی اپنے ہدف کے عین مطابق تھے۔
 
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین 
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.