انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے کے لیے مدد و تعاون میں اضافہ ہوگا اور مصر ہمیشہ کی طرح فلسطین پر ہونے والے حملے کے لیے حفاظتی قلعہ ثابت ہوگا۔ غزہ کی وزارت اوقاف و امور دینیہ کے زیر انتظام کانفرنس جس میں فلسطین اور مصر کے جید علماء شریک تھے سے خطاب کرتے ہوئے ظاظا کا کہنا تھا ’’کانفرنس امت کے روشن مستقبل کی امید ہے جس سے مصر اور فلسطین کے درمیان امتیازی تعلقات کا آغاز ہوگا‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب غزہ محاصرے میں ہے، اس کا ساری دنیا سے رابطہ منقطع کیا جا چکا ہے۔ اقتصادی طور پر یہاں ہر طرح کی درآمدات و برآمدات پر پابندی عائد ہے۔ بنکوں اور مالیاتی اداروں سے فنڈز نکلوا لیے گئے ہیں، غزہ کی حکومت نے کامیابی کے ساتھ یہاں پر قیام امن کا فریضہ سرانجام دیا جو انتہائی حیران کن ہے۔ حکومت نے محاصرے کے گزشتہ چھ سالوں کے درمیان انتہائی کامیاب فیصلے کیے۔
انہوں نے بتایا کہ حماس کی حکومت نے دین، دعوت اور تعلیم کے میدانوں میں بھی شاندار کامیابیاں سمیٹی ہیں، ایک سال میں غزہ کی پٹی میں اکتالیس ہزار بچوں اور بچیوں نے قرآن حفظ کیا، دعوت و ارشاد کے شعبوں اور یونیورسٹی سطح پر طلبہ کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔
اس موقع پر فلسطینی رہنما اسماعیل رضوان نے اپنے خطاب میں امت مسلمہ کی جانب سے اہل غزہ کے ساتھ تمام شعبوں میں مدد پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ مصری علماء کی غزہ آمد محاصرے توڑنے کی طرف اہم قدم ہے، انہوں نے زور دیا کہ ساری امت کو مل کر مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ فلسطینی رہنما کا کہنا تھا کہ قبلہ اول مسجد اقصی کے خلاف اسرائیلی جارحیتیں بڑھتی جارہی ہیں، اسرائیل کا مقصد مسجد اقصی پر مکمل قبضہ اور اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنا ہے۔
اس دوران مصری وزارت اوقاف کے زیر انتظام شعبہ امور امت مسلمہ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صلاح سلطان نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہم یہاں پر مصری صدر محمد مرسی کے موقف کی تائید کیے لیے آئے ہیں، مصری صدر نے اپنی ایک ملاقات میں ان سے کہا تھا کہ فلسطین کا امن بھی مصری امن کا ہی ایک حصہ ہے لہذا غزہ اور فلسطین بھر میں موجود اپنے فلسطینی بھائیوں پر حملے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائیگی۔
انہوں نے ساری امت کے علماء سے مسئلہ فلسطین کے حل میں تعاون کی اپیل بھی کی۔
