اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں تین یہودی بستیوں کو توسیع دینے کے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق یہودی آباد کاری کے لیے کل 1272 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔
اسرائیلی بلڈنگ اینڈ ہاؤسنگ منسٹری نے پیر کی شام جاری اپنے بیان میں کہا کہ القدس شہر کے شمالی فلسطینی علاقوں میں موجود یہودی بستیوں راموت اور بسغات زئیف میں مزید یہودی آباد کار لا کر بسائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ نابلس شہر کی یہودی بستی اریئیل میں میں بھی بہتر گھر تعمیر ہونگے۔
دوسری جانب فلسطینی تنظیم ’’پیس ناؤ‘‘ نے صہیونی حکومت کے حالیہ فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ یہودی تعمیرات کا حالیہ فیصلہ اسرائیل کی خوشنودی کی خاطر فلسطینی صدر محمود عباس کے متنازع بیان کا جواب ہے۔ یاد رہے فلسطینی صدر نے ایک اسرائیلی ٹیلی وژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینیوں کے اپنے شہروں میں واپسی کے حق سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
