فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک یہودی تنظیم’’بتسلیم‘‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں تعمیر کردہ نسلی دیوار کے اندرونی علاقوں کو اسرائیل اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ فلسطینی اس باب میں سخت فہمی کا شکار ہیں کہ مغربی کنارے کا کل رقبہ فلسطینی ریاست کا حصہ ہے۔ اگر اسرائیل مغربی کنارے کے تمام علاقوں کو فلسطینی ریاست کاحصہ قراردیتا تو وہاں پر جنگی بنیادوں پر یہودیوں کے لیے کالونیاں کیوں تعمیر کرتا یا ان کالونیوں کی حفاظت کے لیے کروڑوں ڈالرز کی دیوار کیوں کر تعمیر کی جاتی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی تنظیم نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ فلسطین کے مغربی کنارے میں میں نسلی دیوار کا جو نقشہ جاری کیا گیا ہے، اس نقشے کی رو سے 85 فی صد رقبہ نسلی دیوار کے احاطے میں شامل ہوتا ہے۔۔ یوں مجموعی طورپر نسلی دیوار کی وجہ سے 74 فی صد علاقہ اسرائیل کے کنٹرول میں آ رہا ہے۔
نیز اسرائیل نے جن علاقوں میں یہودی کالونیاں تعمیر کررکھی ہیں۔ ان میں فلسطینیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ نسلی دیوار کے اندر موجود فلسطینیوں کی تعداد صرف 7500 ہے۔ اسرائیلی حکومت اور اس کے کارندے ان فلسطینیوں کو بھی سخت قسم کی رہائشی شرائط اور قواعد وضوابط کی آڑ میں وہاں سے نقل مکانی پر مجبور کررہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
