اسرائیل سکیورٹی فورسز کا فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ پیر کے روز بھی مغربی کنارے کے مختلف علاقوں سے چودہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ یاد رہے کہ پانچ ہزار کےلگ بھگ فلسطینی اس وقت صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہیں۔
صہیونی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیے گئے تمام افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پہلے سے مطلوب تھے۔ ادھر اسرائیلی اہلکاروں نے متعدد فلسطینیوں کو تفتیش کے لیے فوجی ہیڈکوارٹرز میں طلب بھی کرلیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد نے قلقیلیہ شہر کے عزون ٹاؤن میں بڑے پیمانے پر گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی ہے۔ صہیونی فوج کی درجنوں گاڑیوں نے علاقے پر دھاوا بولا اور علاقے میں صوتی بموں سے حملہ کردیا جس سے سارے ٹاؤن میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس دوران آٹھ شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا، ذرائع کے مطابق حراست میں لے گئے افراد میں پچیس سالہ اشرف عبد اللطیف عدوان، ستائیس سالہ محمد عبد الرحیم نصار، اٹھارہ سالہ محمد عبد الرحیم بدوان، پچیس سالہ محمد سھیل عدوان، بتیس سالہ محمد ابراھیم رابی، تیس سالہ امیر عبد الرحمن دحبور، سینتیس سالہ عدلی زکی مجد اور تیئیس سالہ محمد عبد العزیز خرفان شامل ہیں۔
جنین میں بھی اسرائیلی فوج نے ایک کارروائی کی اور تحریک جہاد اسلامی کے رہنما شیخ بسام سعدی کی اہلیہ پچاس سالہ نوال سعید سعدی کو گرفتار کرلیا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ صبح چار بجے اسرائیلی فوج کی متعدد گاڑیوں نے ان کے گھر کر محاصرہ کیا اور صہیونی اہلکاروں نے پہلے گھر میں گھس کر سامان کی توڑ پھوڑ کی اور تلاشی لی اس کے بعد سعید سعدی کو حراست میں لے لیا۔
بیت لحم میں بھی جنوبی ٹاؤن بیت فجار سے چار لڑکوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام منتقل کردیا گیا ہے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ اٹھارہ سالہ شادی ولید طقاطہ، سترہ سالہ عبد یوسف طقاطقہ، اٹھارہ سالہ محمد علی طقاطقہ اور سولہ سالہ عمر عاید طقاطقہ کو یہودی بستی عصیون کی جانب جانے والی شاہراہ کے ایک چوک سے گزرتے ہوئے حراست میں لیا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
