فلسطینی اسیر رہنما ایمن شروانہ نے ستمبر سن دو ہزار گیارہ میں حماس اور اسرائیل کے مابین تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہائی پا کر دوبارہ گرفتار کیے جانے والے فلسطینی اسیران کی رہائی کے لیے معاہدے کے ثالث مصری صدر محمد مرسی سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے مصر کی نگرانی میں اس معاہدے کے تحت پانچ سال سے حماس کے زیر حراست اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے 1027 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ تاہم اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعض فلسطینیوں کو دوبارہ حراست میں لے لیا ہے۔
اپنی 128 روزہ بھوک ہڑتال کے باعث اسرائیلی رملہ جیل کے ہسپتال میں منتقل کیے گئے معروف فلسطینی اسیر رہنما ایمن شروانہ نے اپنے پیغام میں مصری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’اسیران سے وفاداری‘‘ نامی اس معاہدے کے تحت رہا پانے کے باوجود دوبارہ گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کو اسرائیلی مظالم سے نجات دلوانے میں کردار ادا کرے کیونکہ یہ معاہدہ مصر کی نگرانی میں ہوا تھا اور معاہدے کے تحت اسرائیل ان اسیران کو دوبارہ گرفتار نہیں کر سکتا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
