فلسطینی صدر محمود عباس کے اسرائیلی ٹی وی کو دیے گئے ایک متنازعہ انٹرویو کے رد عمل میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر عباس کی جانب سے حق واپسی جیسے بنیادی اور قوم کے دیرینہ حق سے انکار اور آزادی کی جدو جہد کو دہشت گردی قرار دینے پرعوام میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔
حماس بھی صدر عباس کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قومی موقف سے انحراف قرار دیتی ہے۔ حماس نے ملک بھرمیں آج اتوار کے روز صدر عباس کے متنازعہ بیان کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے، جس میں عوامی حلقوں، سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں حماس کی اپیل پرآج ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا جائے گا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ حماس کے علاوہ کئی دیگر فلسطینی سیاسی اور عسکری تنطیموں کے رہ نما اور کارکن بھی حماس کی اپیل پراحتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
