فلسطین میں مسجد اقصیٰ کے خلاف سازشیں نہ صرف صہیونی حکومت ، اس کی فوج اور انتہا پسندوں کی جانب سے جاری ہیں بلکہ صہیونی ریاست کے تمام ادارے حتیٰ کہ یہودی درسگاہیں بھی مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی سازشوں میں برابر ملوث ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی رپورٹس میں بتایا ہے کہ مسجد اقصٰی کے کچھ ہی فاصلے پرسلوان کے مقام پرکی گئی تازہ کھدائیوں میں اسرائیل کی بن گوریون یونیورسٹی کے ماہرین آثار قدیمہ کی مدد لی گئی تھی۔ اس کے علاوہ صہیونی حکومت کے زیرانتظام ہونے والی ان کھدائیوں میں انتہا پسند یہودیوں کی نمائندہ تنظیم’’العاد‘‘ نے کھدائی کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے۔
خیال رہے کہ اسرائیل سلوان کے مقام پر’’شہر داؤد‘‘ کے نام سے ایک نئی کالونی تعمیر کرنے میں کوشاں ہے۔ یہ علاقہ مشرقی بیت المقدس میں واقع ہے اور مسجد اقصیٰ کے قریب تر ہونے کے باعث نہایت حساس مقام سمجھا جاتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی رپورٹس میں بتایا ہے کہ مسجد اقصٰی کے کچھ ہی فاصلے پرسلوان کے مقام پرکی گئی تازہ کھدائیوں میں اسرائیل کی بن گوریون یونیورسٹی کے ماہرین آثار قدیمہ کی مدد لی گئی تھی۔ اس کے علاوہ صہیونی حکومت کے زیرانتظام ہونے والی ان کھدائیوں میں انتہا پسند یہودیوں کی نمائندہ تنظیم’’العاد‘‘ نے کھدائی کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے۔
خیال رہے کہ اسرائیل سلوان کے مقام پر’’شہر داؤد‘‘ کے نام سے ایک نئی کالونی تعمیر کرنے میں کوشاں ہے۔ یہ علاقہ مشرقی بیت المقدس میں واقع ہے اور مسجد اقصیٰ کے قریب تر ہونے کے باعث نہایت حساس مقام سمجھا جاتا ہے۔
