اسرائیلی حکومت نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب سوڈان کے جنوب میں دارالحکومت خرطوم میں ایک فوجی فیکٹری پر حملے کا اعتراف کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی سیاسی اور سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین عاموس گیلاد کا کہنا ہے کہ سوڈان ایک دہشت گرد ملک ہے، ضرورت پڑی تو وہ دوبارہ بھی حملہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سوڈان نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ اور اس کے مقتول لیڈر اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی کی سب سے بڑی مثال تھی۔ خرطوم عالمی وارننگ کے باوجود آج بھی باز نہیں آیا ہے بلکہ ایرانی اسلحہ مصرکے راستے فلسطینی تنظیموں اسلامی تحریک مزاحمت حماس اور اسلامی جہاد تک پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر عاموس گیلاد کا کہنا تھا کہ سوڈانی صدر عمرالبشیر’’جنگی مجرم‘‘ ہیں اور انہیں ایران کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔
ادھر اسرائیلی اخبار’’ہارٹز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی انٹیلی جنس اداروں کو حال ہی میں یہ خفیہ اطلاع ملی تھی کہ خرطوم میں یرموک فوجی کیمپ میں خطرناک نوعیت کا اسلحہ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ امکان ہے کہ یہ اسلحہ فلسطینی مزاحمتی گروپوں اسلامی جہاد اور حماس تک پہنچایا جائے گا، جس کے بعد یہ اسلحہ صہیونی فوج پرحملوں میں استعمال ہوسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے پیشگی حملہ کرکے اسلحے کا یہ بڑا ذخیرہ تباہ کیا ہے۔
ادھر اسرائیل کے ایک دوسرے اخبار’’اسرائیل ھیوم‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے سوڈان میں ایک فیکٹری پرحملہ کرکے ایران کو بھی ایک پیغام دیا ہے کہ وہ اس غلط فہمی کا شکارنہ ہوکہ اس کی جوہری تنصیبات اسرائیلی جنگی جہازوں کی پہنچ سے دور ہیں۔ اسرائیل اگر خرطوم میں 1900 کلومیٹر دور کامیاب فضائی حملہ کرسکتا ہے تو ایرانی تنصیبات 1600 کلومیٹر کے فضائی فاصلے پرہیں، جنہیں با آسانی تباہ کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب خرطوم میں نامعلوم جنگی جہازوں کے گرائے گئے بمبوں سے ایک فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ سوڈان نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ فیکٹری پرحملہ اسرائیلی جنگی جہازوں نے کیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
