قطر کے میرشیخ حمد بن جاثم آل ثانی کے فلسطینی محصورشہرغزہ کی پٹی کےکل منگل کے روز دورے کو صہیونی میڈیا میں بڑے پیمانےپر کوریج دی گئی ہے۔ اسرائیل کے سیاسی اور ابلاغ حلقے امیرقطر کے دورہ غزہ سے
سخت مشوش دکھائی دیتے اور ان کاکہناہے کہنا ہے کہ شیخ حمد کے دورہ غزہ سے اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی عرب ممالک اور عالمی سطح پر پزیرائی میں اضافہ ہو گا۔
اسرائیلی اخبار’’یروشلم پوسٹ‘‘ نے اپنی آن لائن اشاعت میں شیخ حمد بن جاسم کے دورہ غزہ کو’’غیرمناسب‘‘ قراردیا ہے۔ اخبارلکھتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں کا خیال ہے کہ شیخ حمد بن جاثم کو غزہ کی پٹی کا دورہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔
اخبارنے اسرائیلی وزارت خارجہ کےترجمان یگال بالمور کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں مسٹر المورکا کہنا ہے کہ امیر قطر نے حماس کو فلسطینی اتھارٹی اور صدر محمود عباس پر ترجیح دی ہے۔ امیر قطر کے لیے یہ بات غیرمناسب ہے کہ وہ غزہ کا دورہ کریں۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ رام اللہ کا دورہ کرتے اور صدر محمود عباس سے ملاقات کرتے۔
اسرائیل کے ایک دوسرے عبرانی اخبار ہارٹز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امیر قطر کے غزہ کی پٹی کے دورے سے شہرکی حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت کے عرب ممالک اور عالمی سطح پرمقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ امیر قطر نے حماس کی عالمی سطح پر سیاسی معاونت کی راہ ہموار کردی ہے۔ اب مسلم ممالک کے سربراہوں کے لیے غزہ کی پٹی کے دورے کی راہ ہموار ہوگی۔
عبرانی اخبار کے مطابق امیر قطر نے غزہ کے دورےکے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت آئینی اور قانونی ہے اور دیگر ممالک کو بھی غزہ کی پٹی کا دورہ کرنا چاہیے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
