امریکا کے ممتاز دانشور اور امریکی وصہیونی پالیسیوں کے ناقد نوم چومسکی نے فلسطینیوں پر زور دیا ہےکہ وہ اپنے حقوق اور آزادی کے حصول کے لیے مغرب اور امریکا پر انحصار نہ کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ تاریخ نے فلسطینی عوام کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے اور استعماری طاقتوں نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق دبانے کی سازش کی لیکن فلسطینیوں کوحوصلہ شکنی کے بجائے ہر فورم پر اپنے حقوق کی جنگ کو لڑنے کے لیے عزم کرنا چاہیے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق نوم چومسکی نے ان خیالات کا اظہار فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں قائم اسلامی یونیورسٹی کے زیراہتمام ایک کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ ان کےخطاب کا موضوع عرب بہاریہ اور امریکی پالیسیوں کا مستقبل تھا۔ ہفتے کے روز اپنی تقریرمیں مسٹرچومسکی نے امریکی پالیسیی ساز اداروں اور حکومت کوحسب سابق سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر غزہ اسلامی یونیورسٹی کی جانب سے نوم چومسکی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔
نوم چومسکی نے کہا کہ فلسطینیوں کو مغربی دنیا میں اس طرح کی پذیرائی حاصل نہیں ہے جسی ان کے مقابلے میں اسرائیلیوں کو میسر ہے۔ مغرب کا فلسطینیوں کے بارے میں طرز فکرغلط ہے اور وہ ہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ اس لیے میں فلسطینی عوام سے کہوں گا کہ وہ مغرب پرزیادہ انحصاری کے بجائے خود انحصاری پرتوجہ دیں۔ کیونکہ مغرب، یورپی دنیا اور امریکا فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہیں دلوا سکتے ہیں۔
نوم چومسکی نے عرب بہاریہ کے مسئلہ فلسطین اور مشرق وسطیٰ میں تبدیلی پرپڑنے والے اثرات پربھی مفصل گفتگوکی۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں برپا ہونے والے عوامی انقلابات نے استعماری طاقتوں کو ناکام کیا ہے۔ کیونکہ عوامی دباؤ کے نتیجے میں گرنے والی حکومتیں کسی نہ کسی شکل میں مغربی استعمارکے سہارے کھڑی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب بہاریہ نے مطلق العنان بادشاہتوں کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ میں عوامی جمہوریت کی راہ ہموار کی ہے اور یہ جمہوریت مسئلہ فلسطین کے حل کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عرب ممالک میں انقلابات کے باوجود کچھ طاقتیں اپنی مرضی کے ایجنٹ مسلط کرکے اپنا اثرو رسوخ قائم رکھنا چاہتی ہیں۔نوم چومسکی نے غزہ اسلامی یونیورسٹی کی جانب سے عزت افزائی کرنے اور اعزازی ڈگری دینے پریونیورٹی کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
