اسرائیل نے فلسطینی شہر غزہ کی پٹی پر حملہ کیا تو یہ ما بعد انقلاب مصرکے لیے بھی ایک بڑی آزمائش اور امتحان ہو گا۔ اسرائیل کے سامنے تمام راستے کھلے ہیں،
وہ غزہ کی پٹی پر حملہ کرے یا عرب اور مصرمیں جاری انقلابی سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ کھلواڑ کرے، کیونکہ سرائیل کو جارحیت سے روکنے کے لیے عالمی برادری نے ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ان خیالات کا اظہار مصر کے ایک ممتاز دانشور اور سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر عبداللہ الاشعل نے ایک خبررساں ایجنسی سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین پراسرائیل کا حملہ اب صرف فلسطینیوں تک محدود نہیں رہے گا اور نہ ہی اس میں محض فلسطینی مزاحمتی قیادت کی بات کی جائے گی بلکہ اس کے بعد اسرائیل کے کسی بھی حملے میں مصری حکومت بھی اس کی جوابدہی کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جب تک عالمی برادری کی جانب سے صہیونی ریاست کو نکیل نہیں ڈالی جائے گی اس وقت تک قابض حکومت اور اس کی فوج ایک بپھرے ہوئے گینڈے کی طرح فلسطینیوں پرحملے کرتی رہے گی۔ عین ممکن ہے کہ اسرائیل کسی پڑوسی ملک کےخلاف بھی جنگ چھیڑ دے کیونکہ اسے روکنے والا جو کوئی نہیں ہے۔
عبداللہ الاشعل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسرائیل کے غزہ کی پٹی میں حملے کی صورت میں مصر کی نئی حکومت کا رد عمل کیا ہو یہ ایک قابل غور بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ رد عمل حسب سابق ہوگا یا اس میں کوئی نئی بات بھی شامل ہوگی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
