فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے زیر اہتمام ایک سال قبل تنظیم اور صہیونی حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیلنگ کی پہلی سالگرہ پر ریلیاں اور جلسے جلوس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ جلسوں اور ریلیوں میں مظاہرین نے فلسطینی مجاہدین پر زور دیا ہے کہ وہ مزید اسرائیلی
فوجیوں کو اغواء کریں تاکہ ان کے بدلے میں صہیونی جیلوں میں قید اپنے پیاروں کی جانیں بچائی جا سکیں۔
خیال رہے کہ پچھلے سال اکتوبرمیں مصرکی ثالثی سے حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت حماس نے غزہ کی پٹی میں مجاہدین کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے فوجی گیلاد شالیت کو رہا کرکے اس کے بدلےمیں اپنے 1050 اسیران کو اسرائیل کی قید سے نجات دلائی تھی۔ فلسطین میں اس ڈیلنگ کو ’’وفاء احرار‘ معاہدے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز شہر کی مختلف مساجد سے نکلنے والے جلوسوں نے ایک بڑی ریلی کی شکل اختیار کرلی جو اسرائیلی جیل میں قید القسام بریگیڈ کے کمانڈر حسن سلامہ کے گھرکے باہر جا کرختم ہوئی۔ اس موقع پرحماس کی مقامی قیادت نے ریلی سے خطاب کیا۔ مقررین نے مجاہدین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کی کوشش کریں تاکہ ان کی رہائی کو فلسطینیوں اسیران کی رہائی کا ذریعہ بنایا جاسکے۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں اٹھائے پلے کارڈ اور کتبوں پربھی مجاہدین سے اپیل کی تھی کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کی کارروائیوں میں اضافہ کریں تاکہ دشمن کے فوجیوں کو قید کرکے ان کے بدلے میں اپنے شہریوں کی رہائی یقینی بنائی جا سکے۔
