فلسطینیوں کی جبرا قبضے میں لی گئی املاک کی یہودیوں میں بندربانٹ صہیونی حکومت کا شروع دن سے وطیرہ چلا آ رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار’’ہارٹز‘‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزیردفاع ایہود باراک نے مقبوضہ
الخلیل میں ایک فلسطینی شہری کا پلازہ ایک یہودی تنظیم کو دینے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیردفاع کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں تعمیر کیے گئے مذکورہ پلازے کے بارے میں سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیتے ہوئے اسے یہودیوں کی ملکیت قراردیا ہے۔ عدالت نے اس پلازے کو فوج علاقے میں آنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کے تصرف میں لانے کا حکم دیا تھا تاہم وزیردفاع کو اسے سولین کے استعمال میں لائے جانے کی اجازت دینے کے اختیارات ہیں۔
اخبار نے وزیردفاع ایہود باراک کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ملٹری کے مشیر قانون نے بھی انہیں مشورہ دیاہے کہ الخلیل کے چار منزلہ متنازعہ پلازے کو یہودی آباد کاروں کے حوالے کردیا جائے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انتہا پسند یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ مکان سنہ 1994ء میں تعمیر کیا گیا تھا، جسے انہوں نے فلسطینی مالکان فائز الرجبی اور عبدالقادرشاور سے ایک تیسرے فریق ایوب یوسف جابر کے توسط سے خرید تھا۔ جس کی پانچ لاکھ اردنی درہم مالیت مقرر کی گئی تھی۔ تاہم سنہ 2007ء میں فلسطینی پلازے کےمالکان نے صہیونی عدالت میں ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھاکہ صہیونی حکام نے معاہدے کے مطابق پوری رقم ادا نہیں کی جس کے باعث وہ اپنے مکان کو خالی نہیں کریں گے۔ یہودیوں نے اس پلازے کے بارے میں حکم امتناعی جاری کروادیا۔ عدالت نے آخر کار صہیونیت نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ یہودیوں کے حق میں دیا ہے۔
