عرب لیگ نے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے بڑھتے واقعات خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں، مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچا تو پورا خطہ تباہی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
عرب لیگ کی جانب سے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں بیت المقدس میں
یہودی آباد کاری، مسلمانوں اور مسیحی برادری کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی گئی اور اسطرح کے واقعات کو امن اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہے کہ مسجد اقصیٰ پریہودی آباد کاروں کی یلغار اگرچہ ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے لیکن اب اس میں غیرمعمولی اضافہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ حالیہ کچھ عرصے سے یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ میں گھس کرنہ صرف تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرتی ہے بلکہ نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی آمد ایسے ہی ہے جیسے چند سال قبل مغربی کنارے کے الخلیل شہرمیں جامع مسجد ابراہیمی میں تھی۔ یہودیوں کی اس شرمناک یلغار کے بعد مسجد ابراہیمی کو تقسیم کردیا گیا۔ اسی طرح کی سازش اب قبلہ اول کے حوالے سے جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی نہ صرف عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ تمام آسمانی مذاہب کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
عرب لیگ نے اپنے بیان میں صہیونی حکومت کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ انتہا پسند یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کے لیے کھلی چھٹی نہ دے ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کا تقدس اور اس کی حفاظت عرب لیگ کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ لیگ اس حساس معاملے کو کسی صورت میں نظرانداز نہیں کر سکتی۔
