اسرائیلی فوجیوں کا اغواء اور ان کے بدلے میں فلسطینی اسیران کی رہائی مجاہدین فلسطین کا اجتماعی تزویراتی فیصلہ ہے جسے کسی قیمت پر ترک نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیلی جیلوں میں قید آخری فلسطینی کی رہائی تک حماس، پوری فلسطین قوم، عرب ممالک اور عالم اسلام اپنی مساعی جاری رکھیں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ان خیالات کا اظہار حماس کے نوجوان رہ نما مشیر المصری نے غزہ کی پٹی میں ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید مجاہدین آزادی کو کسی صورت میں بھلایا نہیں جاسکتا۔ اسیران کا مسئلہ ام المسائل کا حصہ ہے۔ جب تک آخری فلسطینی صہیونی قید خانوں سے رہائی نہیں پا لیتا، فلسطین کو آزاد نہیں سمجھا جاسکتا۔
مشیر المصری کا کہنا تھا کہ فلسطینی اسیران کی رہائی فلسطین کی آزادی کے پروگرام کا حصہ ہے۔ فلسطینی ریاست کو اس وقت محفوظ اور آزاد سمجھا جائے گا جب اسرائیلی جیلوں میں مقید تمام فلسطینیوں کو بھی رہائی نصیب ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی قید سے اپنے پیاروں اور قومی ہیروز کی رہائی کے لیے دشمن کے فوجیوں کو یرغمال بنایا جاتا رہے گا۔ گیلاد شالیت آخری فوجی نہیں تھا جس کے بدلے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو رہائی ملی۔ اس کے بعد بھی دشمن کے فوجیوں کو قید کرکے ان کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کو رہائی دلوائی جاتی رہے گی۔ یہ تمام فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی مشترکہ تزویراتی حکمت عملی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
