قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مسلمان شہریوں کے مکانات کی مسماری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان سے امتیازی سلوک پرمصرصہیونی حکام
نے ستمبرکے مہینے میں بیت المقدس، مغربی کنارے کے شہرالخلیل، وادی اردن، صحرائے نقب اور دیگر علاقوں میں 19 مکانات کو منہدم کردیا گیا اور چالیس مکانات کے مالکان کو مکان خالی کرنے اور انہیں خود ہی گرانے کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی آباد کاری کےخلاف کام کرنے والی تنظیم’’معا‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نومبر کے مہینے میں قابض حکومت نے فوج کے ذریعے چالیس مکانات کے مالکان کو اپنے مکانات گرانے کے نوٹسز جاری کیے۔ اس دوران انیس مکانات اور دیگر عمارتوں کو منہدم کردیا گیا اور فلسطینیوں کی 2070 ایکڑ اراضی کو بھی ہتھیا لیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے لیے کئی قسم کے جواز تراش رکھے ہیں۔ سب سے بڑا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ فلسطینیوں نے اپنے مکانات اسرائیلی حکومت کی منظوری کے بغیر تعمیر کیے ہیں۔ اس لیےوہ نقشے پرغیرقانونی مکانات ہیں۔ اس کےعلاوہ بعض علاقوں میں فلسطینیوں کے مکانات مغربی کنارے کے سیکٹر ’’سی‘‘ میں آنے کے باعث بھی گرائے جانےکے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض حکومت کی طرف سے نہ صرف شہریوں کے رہائشی مکانات گرائے جا رہے ہیں بلکہ اسکول، اسپتال، ڈسپنسریاں، پانی کے کنوئیں، دکانیں اور دیہاتیوں کی جھونپڑیاں بھی شامل ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
