اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے پانچ ہزار کے لگ بھگ فلسطینیوں کو قید و بند کر رکھا ہے۔ ان اسیران کی بڑی تعداد صہیونی عقوبت خانوں میں 10 سال سے زائد عرصہ بیت چکی ہے۔
گزشتہ روز صہیونی حراست میں دس حراست مکمل کرنے والے اسیران کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہوگیا۔
38 سالہ فلسطینی اسیر شادی فارس وشاحی کا تعلق مغربی کنارے کے شہر جنین کے گاؤں مثلث سے ہیں انہیں صہیونی عدالت نے اٹھارہ سال قید کی سزا سنا رکھی ہے۔ امور اسیران کے تجزیہ کار اور دفاع اسیران مرکز کے ڈائریکٹر ثامر سباعنہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وشاحی کو پانچ اکتوبر 2002 کو گرفتار کیا گیا۔
ثامر سباعنہ نے بتایا کہ وشاحی کو طوباس کے قریب ایک چیک پوسٹ پر مسلح ہوکر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ان دنوں جلبوع جیل میں قید ہیں۔ گرفتاری سے قبل اسرائیلی فوج چودہ مہینے تک ان کا پیچھا کرتی رہی تھی۔
فلسطینی اسیران امور پر گہری نظر رکھنے والے فلسطینی رہنما نے بتایا کہ وشاحی کو اٹھارہ سال قید کی سزا سنائی گئی جس میں سے وہ دس سال مکمل کر چکے ہیں، ان دس سالوں میں اسرائیلی انتظامیہ نےانہیں اپنے رشتہ داروں اور گھر والوں سے ملاقات سے محروم رکھا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
