• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

‘‘بارہ سال میں 75 ہزار فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں ڈالے گئے’’

ہفتہ 29-09-2012
in فلسطین
0
plf 75 thousand
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین میں انسانی حقوق اور اسیران سے متعلق کام کرنے والے ایک تجزیہ نگار عبدالناصر فروانہ نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ سنہ 2000ء کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج نے 75 ہزار فلسطینیوں کو پکڑ کرجیلوں میں ڈالا ہے۔

ان میں سے ہزاروں شہری اب بھی اسرائیلی عقوبت خانوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سابق اسیر ناصر فروانہ نے اپنی تازہ تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دوسری تحریک انتفاضہ کے آغاز کے ساتھ ہی قابض اسرائیل نے فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں خواتین، مرد اور عام شہری تو تھے ہی شیرخواروں کو بھی نہیں بخشا گیا ہے۔ چنانچہ ستمبر سنہ 2000ء کے بعد سے ستمبر2012ء تک فلسطین بھر سے کم سے کم پچہتر ہزار افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں ٹھونسا گیا، جہاں انہیں اذیت ناک سزائیں دی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض فوج نے ان بارہ سالوں میں 09 ہزار بچوں،940 خواتین، ہزاروں زخمیوں، اراکین پارلیمنٹ، وزراء، سیاسی جماعتوں کے قائدین، دانشوروں، صحافیوں اور دیگر شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان بارہ سالوں میں قابض فوج نے 22 ہزار افراد کو حراست میں لے کر بغیر مقدمہ چلائے انہیں انتظامی تحویل میں رکھا گیا۔ بعض کو کئی کئی سال تک انتظامی حراست میں رکھا جاتا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت بھی اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل شہریوں کی تعداد 4500 سے زیادہ ہے۔ ان میں 198 بچے، آٹھ خواتین، انتظامی حراست کے 215 قید،14 فلسطینی اراکین پارلیمنٹ، سیکڑوں مریض اور زخمی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قابض فوج نے نہ صرف زندہ شہریوں کو حراست میں لیے رکھا بلکہ جنگ اور تحریک انتفاضہ کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی میتوں پربھی قبضہ کر لیا گیا تھا۔ اب بھی اسرائیل کے پاس درجنوں فلسطینی مردوں اور عورتوں کی میتیں موجود ہیں جو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے کردار پر بھی بدنما داغ ہے۔

ناصر فروانہ نے فلسطینیوں کی گرفتاریوں کے بارے میں اعداد و شمار جاری کرنے کے بعد انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے منفی کردار پربھی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بارہ سال کے اس عرصے میں دنیا کی کسی بڑی انسانی حقوق کی تنظیم کو فلسطینی اسیران کے مسئلے پر کوئی مہم چلاتے نہیں دیکھا گیا۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.