اسرائیل کی ایک جیل میں زیرحراست فلسطینی سے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والی اس کی معمر والدہ کی تیرہ سال کے بعد پہلی مرتبہ ملاقات کرائی گئی۔ طویل فراق کے بعد ماں بیٹے کی ملاقات کے وقت جذبات ناقابل بیان تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق معمر فلسطینی خاتون پیرانہ سالی اور کئی امراض کا شکار ہونے کے باوجود اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے مُصر رہی۔ ملاقات کرانے کا اہتمام کرانے والے انسانی حقوق کے وفد نے بڑھیا سے کئی بار کہا کہ اس کی صحت بیٹے سے ملاقات کے لیے طویل سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتی لیکن اس نے انسانی حقوق کی تنظیم کی ہدایات مسترد کر دیں اوربیٹے سے ملاقات کا شوق آخر کار اسے جیل تک لے گیا۔ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ اپنے لخت جگر سے ملاقات کے لیے اسرائیلی جیل کےباہر جاتی رہی ہے لیکن سفاک صہیونی اسے ہر بار دھتکار دیتے تھے۔
بیٹے سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بڑھیا نے کہا کہ اس نے اپنے بیٹے حسن کو چھوا نہیں ہے، کیونکہ ظالم یہودیوں نے ملاقات کے وقت بیٹے کے کمرے کے دروازے بند کر دیے تھے اور اسے کہا گیا تھا کہ وہ دونوں ایک کھڑکی کے سامنے کھڑے کربات چیت کرلیں۔ کھڑکی میں لگے شیشے کے باعث وہ نہ تو ایک دوسرے کو چھو سکے اور نہ ہی وہ اپنے بیٹے کی آواز صحیح طورپر سن پائی ہے۔ البتہ اس نےاپنے اسیر بیٹے کو دیکھا ہے جو بہت لاغر اور کمزور ہو چکا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
