سلوان دفاعی کمیٹی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ نے القدس میں تلمودی باغات کی تعمیر کے لیے 3727 فلسطینی گھروں کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
کمیٹی کے سربراہ فخری ابو دیاب کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں بلدیہ کے رکن مئیر مارگریٹ نے کمیٹی کو پیغام ارسال کردیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موصول ہونے والے پیغام میں بتایا گیا ہے کہ بلدیہ سلوان کالونی میں اسرائیلی پولیس، ٹھیکیداروں اور یہودی آباد کاری کی تنظیموں کی موجودگی میں گھروں کو خالی کروانے اور انہیں منہدم کرنے پر بحث مباحثے کا آغاز کر چکی ہے۔
اتوار کے روز خبر رساں ایجنسی ’’صفا‘‘ کے ساتھ اپنی گفتگو میں فخری ابو دیاب نے بتایا کہ اس مہینے کے آغاز سے فلسطینیوں میں گھروں کو گرانے کے نوٹسز کی تقسیم شروع ہو چکی ہے۔ یہ نوٹسسز بلدیہ کے ملازمین اور ایک اسرائیلی تنظیم کے نمائندے تقسیم کر رہے ہیں۔
اسرائیلی بلدیہ نے اتوار کے روز سلوان ٹاؤن میں الگ الگ مقامات کے دس گھروں کے مالکان کو انہدامی نوٹسز جاری کیے۔ گھر خالی کرنے کا نوٹس وصول کرنے والے ایک شہری ابو دیاب نے بتایا کہ اسرائیلی بلدیہ اور پولیس سلوان میں اہالیان القدس کیخلاف گھیرا تنگ کرتی جارہی ہے۔ اہل علاقہ کو دھمکی دی جارہی ہے کہ جس نے ان کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا اس کا گھر بھی گرا دیا جائیگا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
