اسرائیل نے سن 1967ء سے مغربی کنارے پر قبضہ کرکے تمام شہروں میں یہودی بستیاں تعمیر کرکے یہاں پانچ لاکھ سے زائد یہودیوں کو لا بسایا ہے۔ اقوام متحدہ کی مخالفت کے باوجود ان یہودی بستیوں میں توسیع کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اسرائیل نے تین سو رہائشی یونٹس کی تعمیر کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔
یہودی بستیوں اور نسلی دیوار مخالف کمیٹی کے ڈائریکٹر احمد صلاح کا کہنا ہے کہ اسرائیلی تعمیراتی مشینری نے علاقے کی اراضی کو صاف کرنا شروع کردیا ہے۔ ام حمین کے علاقے میں تعمیر کی جانے والے والی یہودی بستی کی تعمیر کی اجازت کچھ ماہ قبل دی گئی تھی۔
احمد صلاح نے واضح کیا کہ اسرائیل نے سن 2000 میں ام حمدین کا علاقے پر تسلط جمایا اور اس کو یہودی بستی میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے پیچھے اسرائیل کے چالیس فوجی اڈوں کو یہودی بستیوں میں تبدیل کرنے کا صہیونی منصوبہ کار فرما ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اراضی پر لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار ہے۔ اس یہودی بستی میں پانچ سو ایکڑ فلسطینی اراضی استعمال کی جائے گی اس طرح پہلے سے موجود یہودی بستی کے چاروں اطراف بھی یہودی ہی اباد ہونگے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
