اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر جنین کے دو ٹاؤنز عانین اور طورہ میں فلسطینی کی اراضی پر کھڑی فصلوں اور زیتون کے درختوں کے پھلوں کو ضائع کرنے کے لیے بڑی تعداد میں خنزیر چھوڑ دیے جنہوں نے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی فصلوں اور پھلوں کو نقصان پہنچایا۔
عانین کی زرعی تنظیم نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ گزشتہ رات کو اسرائیلی فوجیوں کے بھری بسوں کی بڑی تعداد نسلی دیوار کے قریب پہنچیں۔ صہیونی اہلکاروں نے مغربی کنارے کو سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین سے الگ کرنے والی اس دیوار کے قریبی علاقوں میں خنزیر چھوڑ دیے۔
تنظیم کے مطابق خنازیر چھوڑنے کا مقصد ان علاقوں میں فلسطینیوں کی زیر کاشت فصلوں اور زیتون کے پھلوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ ذرائع کے مطابق چھوڑے جانے والے خنزیروں نے فصلوں اور زیتون کے باغوں میں جاکر غارت گری شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق نسلی دیوار کے قریبی علاقوں میں فلسطینیوں کو کاشت کاری سے روکنےکے لیے اسرائیل کی جانب سے سختیاں بڑھائی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل بھی صہیونی فوج ان علاقوں سے فلسطینیوں کو دور رکھنے کے لیے خنزیر چھوڑ چکی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
