فلسطینی شہریوں کے یورپی یونین کےخلاف احتجاج کے بعد یونین نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مرکزی شہر رام اللہ میں اپنا علاقائی دفتر بند کر دیا ہے۔ فلسطینی یورپی یونین کے قابض اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز رام اللہ میں یورپی یونین کے دفترکے باہرسیکڑوں فلسطینیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ ان بینروں پر یورپی یونین کے رکن ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کووسعت دینے کےخلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے اسرائیل سے تعلقات کی شدید مذمت کی اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات پرنظرثانی کرے اور فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند کرانے کے لیے صہیونی حکومت پر دباؤ ڈالے۔
عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین سخت مشتعل دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے یورپی یونین کے دفتر کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تاہم عباس ملیشیا نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ بعد ازاں دفتر کی جانب سے بتایا گیا کہ ادارے کو غیرمعینہ مدت کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ یورپی یونین کے اسرائیل کے ساتھ مزید کئی شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کے اعلان کے خلاف فلسطینیوں کا احتجاج گذشتہ ایک ماہ سے جاری ہے۔ ایک ماہ قبل ای یو نے ایک اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ تعلیم، صحت، دفاع، سیاحت اور دیگرساٹھ شعبوں میں تعاون بڑھانے کا معاہدہ کیا تھا۔ یونین کے اس معاہدے کےخلاف فلسطینی مسلسل احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
