برطانیہ میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں عرب فضائی کمپنیوں اور عیسائیوں کے انتہا پسند یہودیوں کے ساتھ تعاون کے ایک شرمناک سلسلے کا پردہ چاک کیا ہے۔
عرب انسانی حقوق گروپ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینگاپور کا ایک عیسائی چرچ اور عرب ممالک اور ترکی کی فضائی کمپنیاں انتہا پسند یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں لانے اور تقریبات منعقد کرانے میں معاونت کر رہی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے گروپ کی رپورٹ کے مطابق عرب ممالک اور ترکی فضائی کمپنیوں کے اس شرمناک تعاون کا سراغ اس وقت لگا جب بڑی تعداد میں یہودیوں کو مختلف ملکوں سے یہودیوں کی عبرانی عید کے موقع پر نام نہاد اسرائیلی ریاست میں لایا گیا۔ ان یہودیوں کو یورپ، وسطی اور مشرقی ایشیاء سے اسرائیل لے جانے میں سب سے اہم کردار عرب ممالک کی فضائی فرموں نے ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ سینگا پور میں عیسائیوں کےایک مذہبی مرکز اور چرچ کے متولیوں نے بھی یہودی انتہا پسندوں کی مسجد اقصیٰ میں تقریبات میں مدد فراہم کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عرب ممالک کی فضائی کمپنیاں اب بھی یہودی سیاحوں کو اسرائیل لانے میں مصروف ہیں حالانکہ امریکا میں تیار کی جانے والی گستاخانہ فلم نے پوری اسلام دنیا کو مشتعل کر کے رکھ دیا ہے۔ لیکن ان فضائی کمپنیوں کا اسرائیل اور یہودیوں کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں بیرون فلسطین سے بڑی تعداد میں یہودی اس لیے جمع ہوئے تاکہ وہ مذموم ہیکل سلیمانی کا سنگ بنیاد رکھ سکیں۔ جس کے لیے انہوں نے مسجد اقصیٰ کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔
برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم نےمزید بتایا ہے کہ سینگا پور کا ‘‘ چر برائے نسل نو’’New Creation Church’’ امریکا کے سب سے بڑی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ‘‘ITBN’’ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ یہ نیٹ ورک عربی، فارسی اور دیگر کئی زبانوں میں اپنی نشریات پیش کرتا ہے۔ امریکا میں یہ یہودیوں کا سب سے بڑا اور ترجمان نیوز نیٹ ورک سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں اس نیٹ ورک نے بھی یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میں آمد میں ان کے ساتھ معاونت کی اور انہیں فنڈز فراہم کیے گئے۔ سینگا پور کے اس چرچ اور امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے تعاون سے یہودی مسجد اقصیٰ میں محراب کے پیچھے، مروانی مصلے، اموی محلات اور جبل زیتون میں تقریبات کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ تقریبات سنہ 2013ء کے شروع میں ہوں گی، جس کے لیے یہودی پوری دنیا سے اپنے حامیوں کو جمع کرنے اور ان سے رقوم حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عرب ممالک کی فضائی کمپنیوں کے تعاون کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ تک پہنچانے میں ترکی کی فضائی کمپنیاں بھی برابر کی شریک ہیں۔ وہ بھی یہودی سیاحوں کےمسجد اقصیٰ میں داخلے کی راہ ہموار کرنے کے لیے پوری دنیا سے نام نہاد سیاحوں کو فلسطین لے جاتی ہیں، سیاحت کی غرض سےآنے والے انتہا پسند یہودی مقامی یہودی آباد کاروں کےساتھ مل کر مسجد اقصیٰ میں توہین آمیز تقریبات منعقد کرتے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
