مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی پانچوں تنظیموں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم ھیومن رائٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ بھوک ہڑتالی اسیران سامر البرق، حسن صفدی اور ایمن شراونہ کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پورے کرے۔ خیال رہے کہ سامر البرق117 ایام سے بھوک ہڑتال پرہیں، ان کے ساتھی حسن صفدی87 اور ایمن شراونہ 77 ایام سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کی تینوں بھوک ہڑتالی اسیران نہ صرف جسمانی طورپر کمزور ہوچکے ہیں اور وہ چلنے پھرنے سےقاصر ہیں بلکہ مسلسل بھوک ہڑتال نے اسیران کی دماغی صلاحیت پربھی گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔اساف ھروفیہ اسپتال کے ڈاکٹروں کی جانب سے جاری میڈیکل رپورٹس میں ان تینوں اسیران کی زندگیوں کوسخت ترین خطرات سےدوچار دکھایا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں پرڈھائے جانے والے مظالم کی بھی شدید مذمت کی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض صہیونی ریاست کو قیدیوں کے بارے میں عالمی قوانین کے احترام کا پابند بنانے کے لیے اس پر دباؤ ڈالے۔
