اسرائیلی جیلوں میں پانچ ہزار کے لگ بھگ فلسطینی قید ہیں جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں ان عقوبت خانوں میں بیس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ آنے والے چند دنوں میں تین فلسطینی اسیران بائیس سال
مکمل کر کے اپنی حراست کے تیسویں سال میں داخل ہو جائیں گے۔
فلسطینی اسیران مرکز نے بتایا کہ پچاس سال کی عمر کے محمد جابر یوسف نشبت کو 20 ستمبر 1990 کو گرفتار کیا گیا تھا، انہیں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، ماہ رواں صہیونی قید میں 23 سال مکمل کرنے والے دوسرے اسیر سھیل سعید سلامہ جدیل، 39 سالہ، کو 26 ستمبر 1990 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ احمد سعید محمد دامونی، اکتالیس سالہ، 24 ستمبر 1990 کو گرفتار کیے گئے تھے۔ انہیں 37 سال قید کی سزا ہے۔
قید میں بائیس سال مکمل کرنے والے تینوں اسیران کا تعلق غزہ سے ہے۔ ان پر سن 1990 میں ایک یہودی آباد کار کے قتل میں شریک ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اسیران مرکز نے بتایا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ صہیونیوں کا ناروا سلوب برداشت کرنے والے ان اسیران کی صحت کی حالت بھی انتہائی خطرناک ہوچکی ہے۔
خیال رہے کہ الجدیلی کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب کہ وہ ابھی سولہ سال کے تھے۔ وہ اپنے کام سے واپس گھر لوٹ رہے تھے کہ اسرائیلی فوج ان کے گھر پر پہلے سے گھات لگائے بیٹھی تھی۔
اسیران مرکز فلسطین نے بتایا کہ سن 1993 کے اوسلو معاہدے سے قبل سے مسلسل اسرائیلی حراست میں رہنے والے 112 فلسطینی اسیران میں سے 28 کا تعلق غزہ کی پٹی سے۔ ان اسیران میں سے سب سے کم مدت تک زیر حراست رہنے والا اسیر بھی اٹھارہ سال سے قید میں ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
