۱۲ اگست ۹۶۹۱ کو تاریخ اسلام کا وہ سیاہ ترین دن تھا کہ جب ایک ایسا بھیانک اورالمناک واقعہ پیش آیا کہ جس نے پوری امت ِ مسلمہ کے جذبات کو مجروح کر دیا۔
یہ وہ منحو س دن تھا کہ جب مسلمانوں کے قبلہ اول اور آسمانی ادیان کی تعلیمات کے مطابق مقدس ترین مقامات میں سے ایک مقد س مقام ”مسجد اقصیٰ“کو صہیونیوں نے آگ لگا کر اُسے بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔
آج اِس تاریخی واقعہ کو 43سال کا عرصہ گزر رہا ہے لیکن ابھی تک اِس گھناو¿نی سازش کے اصل مجرم آزاد ہیں!یہ وہ روش ہے کہ جسے صہیونی حکومت نے آج تک اپنایا ہوا ہے اور آج بھی مسلمانوں کو آپس میں با ہم دست وگریباں کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعما ل کیے جارہے ہیں۔
صہیونی حکومت کے اِس قبیح فعل اور اِس حادثہ کی وجہ سے دنیا کے تمام مسلمانوں میںغم وغصے کی لہر دوڑ گئی او ر تمام مسلمان اِس واقعہ کے خلاف سراپا احتجا ج بن گئے۔صہیونی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر اس واقعہ کے خطرات سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے آسڑیلیائی سیاح ”ڈینس مائیکل روھن“کو اِس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیاتا کہ ڈرامائی عدالت میں اُس پر مقدمہ چلا کر اُسے ظاہری سی سزادی جائے اور بعد میں یہ ظاہر کیاجائے کہ وہ ایک نفسیاتی بیمار ہے کہ جس نے اپنی نفسیاتی بیماری کے دباو¿ میں آکر یہ اقدام کیا ہے!یوں اُسے نفسیاتی مریض قرار دے کرکے آزاد کر دیا جائے ۔
جون ۷۶۹۱ کی چھ روزہ جنگ کے بعد صہیونیوں نے بیت المقدس شہر کے مشرقی حصے پر بھی قبضہ جما لیا تھا اس کے تقریباً ایک سال بعد یہ مذموم واقعہ رونما ہوا۔یہ اُس دور کا واقعہ ہے کہ جب ”عمل“نامی جماعت سے تعلق رکھنے والا ”گولڈامئیر“ ”لیوی اشکول “کی موت کے بعدصہیونی وزات ِعظمیٰ کے عہدے پر نئی نئی فائز ہوئی تھی۔گولڈامئیر کوصہیونیت کے اُن بنیادی سیاستدانوں میںشماکیا جاتا ہے جنہوں نے مسجد الاقصیٰ کے زیر زمین ”خیالی معبد ِ سلیمانی“سمیت یہودیت کے دوسرے تمام مقدس تاریخی آثار کو پانے اور تلاش کرنے کیلئے بہت زیادہ کام کیا۔
صہیونی حکومت نے بیت المقدس پر اپنے قبضے کی ابتداسے ہی سے شہر القدس کے تمام اسلامی آثار و تاریخی مقامات کو نابود کرنے کیلئے کوششیں شروع کر دی تھیں۔ اُس کی منجملہ کوششوں میںعربی بینکوںکو بند کرنا، مکانات کو مسمار کرنا،اسلامی مقامات کی بے حرمتی اور نابودی ،نئی صہیونی بستیوں کی آباد کاری ،عربی کرنسی کو روک کر صہیونی کرنسی کو رائج کرنا اور عربی شناختی کارڈ کو اسرائیلی شناختی کارڈ میں تبدیل کرانے کیلئے عربوں پرزورڈالنا شامل ہیں۔اِن سب اقدامات کا مقصدشہر بیت المقدس کے ساکنوں کے تاریخی تشخص کو مٹانا اورصفحہ¿ ہستی سے محو کرنا تھا۔
عرب اسرائیل کے مابین لڑی جانے والی پہلی جنگ اوراسلامی ممالک کے خلاف اسرائیل کی چھ روزہ جنگ کے زمانے میں قبلہ اول بیت المقدس کو کئی مرتبہ بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل کے لڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں کے نتیجے میںمسجد الاقصیٰ کے مرکزی دروازے اور ایک مینار کو شدید نقصان پہنچاتھا۔
مارچ۸۶۹۱ میںصہیونی حکومت نے آثار ِ قدیمہ کے ماہرین کے کئی گروہوں کی مدد سے مسجد الاقصیٰ کے اطراف اور اُس کے نیچے” معبد سلیمان“ کے تاریخی آثار کو کشف کرنے کی غرض سے وسیع پیمانے پرکھدائی کا کام شروع کیا ۔یہ کھدائی حرم شریف تک جا پہنچی اور صہیونیوں نے مسجد الاقصیٰ کے نیچے کئی سرنگیں کھود ڈالیں۔صہیونیوں کے اِن تمام اقدامات کا مقصد مسجد الاقصیٰ کو تدریجی طور پر نابود کر نا تھاتا کہ اُ س کی جگہ معبد سلیمان نامی یہودی معبد کو تعمیر کیا جا سکے ۔ہمیں چاہےے کہ اِسی تاریخی پس منظر کی روشنی میں مسجد الاقصیٰ کو آگ لگانے کے عمل کا تجزیہ کریںتا کہ اِس کی روشنی میں یہودی اور صہیونی مقاصد کا مکمل طور پر جائز ہ لیا جا سکے!
مسجد الاقصیٰ کی آتشزدگی کے المناک واقعہ میں مسجد کی نئی چھت کا تقریباً دو سو مربع میٹر رقبہ جل کر مکمل طور پر تبا ہ ہو گیاتھا ۔اِس آگ کے نتیجے میں مسجد کے گنبد کو پانچ مقامات سے نقصان پہنچا۔اِس کے ساتھ ساتھ مسجد میں موجود تقریباً آٹھ سو سال قدیمی منبر بھی اِس آتش زدگی کے نتیجے میں جل کر خاکستر ہو گیا۔
مسجد الاقصیٰ کی آتش زدگی کے المناک واقعہ کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔بہت سے اسلامی ممالک کے ذرائع ابلاغ نے صہیونیوں کے اِس قبیح فعل کی مذمت اور اُس کے خلاف بین الاقوامی سطح پرکاروائی کرنے پر زور دیا۔اِس لےے کہ بیت المقدس کے مشرقی حصے پر اسرائیلی قبضے کے بعد مختصر مدت میںیہ صہیونیوںکی بہت بڑی سازش تھی ۔
شہربیت المقدس رسول اکرم کی رحلت کے بعد ابتدائی سالوں میںرومیوں کے تسلط سے آزاد ہوا تھااور یہاں مسلمان آباد ہو گئے تھے ۔۴۷ ہجری میںاُسی مقام پر مسجد الاقصیٰ کی تعمیر کی گئی کہ جہاں سے حضرت ختمی مرتبت معراج پر تشریف لے گئے تھے۔یہ عظیم مسجد درحقیقت اسی مسجد کی جدید شکل تھی کہ جو یہاں پہلے آباد تھی ۔صدیو ںسے موجوداِس مقدس مقام کی حرمت و تعظیم اِس با ت کا موجب بنی کہ مسجد الاقصیٰ کو آگ لگانے کے عمل کو ایک مذہبی مسئلے کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے کہ جس کے نتیجے میں دنیا کے تمام مسلمان اور بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں اِس واقعہ کی بھر پور مذمت کریں۔
اِس واقعہ کے بعد تمام اسلامی ممالک سر جوڑ کے بیٹھے تا کہ ”اسلامی ممالک کی تنظیم(او ۔آئی ۔سی)“کی بنیادرکھیں۔اِس بنا پر مسجد الاقصیٰ کی آتش سوزی کو اسلامی ممالک کی تنظیم کی تاسیس میں ایک اہم عنصر تصور کیاجا سکتا ہے ۔اِس تنظیم نے اِس واقعہ کے ایک ما ہ بعد ”مراکش “کے دارالحکومت”رباط“نامی شہر میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کر کے اپنے وجود کا رسمی اعلان کیا۔
چھ روزہ جنگ میں صہیونیوں کے ہاتھوں مسلمانوںکی شکست کے اثرات نے مسلمانوں کو بہت زیادہ مایوس کیا تھا۔ اِس اجتماعی مایوسی کے تناظر میںایک بین الاقوامی تنظیم کی ضرورت بہت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔دوسر ی جانب چھ روزہ جنگ میں اسرائیلی فوج نے مصر سے صحرائے سینا،شام سے جولان کی پہاڑیوںاور مغربی کنارے کو بیت المقد س کے مشرقی حصے سے الگ کر کے اُن پر قبضہ کر لیاتھا۔
اسلامی ممالک کی تنظیم کی تاسیس سے اسلامی ممالک کے سربراہوں اور حکومتوں کے اتحاد کی ایک نئی صورت سامنے آئی جس نے مسلمانوں کے ایک بین الاقوامی زخم کیلئے مرہم کا کام انجام دیا۔مراکش کے دارالحکومت رباط میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے پہلے اجلاس میںاسلامی ممالک کی تنظیم نے اپنے وجود کا اعلان کیا۔مراکش کا سابقہ بادشاہ ”شاہ حسن دوم“اِس اسلامی سربراہی کانفرنس کامیزبان تھا۔اِس اجلاس میں جو قابل غور نکتہ ہے وہ مغربی ممالک کی جانب سے اِس اجلاس کو منعقد کرنے پر زور ڈالنے اور عرب اتحاد کے اجلاس کو رکوانے پر دباو¿ ڈالنا تھا۔یوں 1969ءمیں سعودی عرب اور ایران یورپی ایجنڈے کے مطابق اسلامی سربراہی کانفرنس کے ایک بے مقصد اور لا حاصل اجلاس کے لئے تیزی سے مصروف عمل ہو گئے۔
مغرب کی عرب ممالک کے اجلاس کی مخالفت کا سبب یہ تھا کہ اُس زمانے میںبہت سے اسلامی ممالک میں”جمال عبد الناصر“کا اثر و رسوخ تھا،اِس بنا پر عرب ممالک کے حوالے سے جو بھی اجلاس منعقد کیاجاتا وہ جمال عبد الناصر کے اثر و نفوذ کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف ایک حملہ تصور کیا جاتا اور یہی وجہ تھی کہ امریکہ اوریورپ نے عرب اتحاد کے اجلاس کی کھل کر مخالفت کی ۔
رباط کے اجلاس کی عدم فعالیت اور غیر مقبولیت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اِس اجلاس کاافتتاح ایران کے سابق شاہ پہلو ی کی تقریرسے ہوا۔شاہ ایران نے یورپی مفادات کے مطابق اپنی تقریر میں مسجد الاقصیٰ کی آتش سوزی کا کہیں بھی تذکرہ نہیں کیااور اُس نے تمام اسلامی ممالک کو آپس میںپیار و محبت کا رشتہ بڑھانے پر زور دینے پر اکتفا کیا۔
رباط کے اجلاس کو اِس طرح منعقد کیا گیا کہ اُس کے آخر میں پاس کی جانے والی قراردادوں میں”بیت المقدس“کا نام لینے سے بھی احتراز کیا گیا اور اُس کی جگہ ”یروشلم “کا عبرانی نام لیا گیا۔اِس اسلامی سربراہی کانفرنس میںتحریک آزادی فلسطین کی جانب سے اسرائیل کی مخالفت اور اُس کا بائیکاٹ کرنے کیلئے اسلامی ممالک کے اتحاد کی دی جانے والی رائے اور تجویز کو بھی قبول نہیں کیا گیا۔اِس اجلاس کا سب سے سخت ترین موقف صہیونی حکومت سے جون ۷۶۹۱ سے قبل کی سرحدوں کی جانب لوٹ جانے کی درخواست پر مشتمل تھا!
ان تمام اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن نے کس طرح گہرائی میں جا کر اِس اہم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ۔
