اسرائیل کی ایک جیل میں زیرحراست فلسطینی اسیر ضرار ابوسیسی نے کہا ہے کہ میں صہیونی عقوبت خانے میں ایک قبر نما گڑھے میں زندہ دفن ہوں،
عالمی برادری میری مدد کرے اور مجھے یہاں سے نکالنے کے لیے کوششیں تیز کرے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ضرار ابوسیسی نے انسانی حقوق کے ایک مندوب کے ذریعے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے نام ایک مکتوب ارسال کیا ہے۔ یہ مراسلہ فلسطین کے تمام اخبارات اور ویب سائیٹس میں شائع ہوا ہے۔ عالمی برادری کے نام اپنی فریاد میں نوجوان ضرار ابوسیسی کا کہنا ہے کہ مجھے ایک قبر نما گڑھے میں کئی ماہ سےقید تنہائی میں ڈالا گیا ہے۔ جیل میں میری فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔ میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے قید تنہائی ختم کرانے کے لیے کئی بار پہلے بھی اپیلیں کرچکا ہے اور اب ایک کھلے خط کے ذریعے دنیا سے مدد کی اپیل کر رہاں ہوں۔ اگر آپ انسانی حقوق اور اخلاقیات کی حامی ہیں تو میری حالت ملاحظہ کریں اور مجھے صہیونی درندگی اور سفاکیت سے نجات دلائیں۔
اپنے مراسلے میں ضرار ابوسیسی کا کہنا ہے کہ میں جیل میں ایک قبر نما گڑھے میں جوحمام(غسل خانے) سے بھی چھوٹا ہے۔ میں اس نے کھڑا ہو سکتا ہوں اور نہ ہی بیٹھ سکتا ہوں۔ میری زندگی عذاب بن چکی ہے۔ صہیونی جیل اہلکار میرے ساتھ نہایت سفاکانہ سلوک کرتے ہیں۔ میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی برادری کی سرکردہ شخصیات سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا وہ اگران کا کوئی پیارا دشمن کی قید میں اس کسمپرسی کا شکار ہوتاتو کی آپ اس کی مدد کو نہ پہنچتے۔ دنیا میری بھی مدد کرے۔ میں نہ نماز پڑھ سکتا ہوں اور نہ ہی مجھے کوئی دوسری سہولت دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ضرار ابوسیسی کو ایک سال قبل موساد کے ایجنٹوں نے یوکرائن سے ایک سازش کے تحت گرفتار کرکے اسرائیلی جیلوں میں منتقل کر دیا تھا۔ ضرارغزہ کی پٹی میں پاور کمپنی سے وابستہ رہا ہے اور اس پر صہیونی حکام کی جانب سے حماس سے تعلق کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
