فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حکمراں الفتح کی حکومت اور وزیراعظم سلام فیاض کےخلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ شہری گذشتہ ایک ہفتے سے علاقے میں مہنگائی
بے روزگاری ، لاقانونیت اور عباس ملیشیا کی غنڈہ گردی کےخلاف سراپا احتجاج ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سلام فیاض حکومت کی جانب سے احتجاج کرنے والی سماجی تنظیموں کو مظاہرین کے مطالبات جلد حل کرنے کی یقین دہائی کرائی ہےتاہم مظاہرین نے حکومت کےخلاف احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شہریوں کاکہنا ہے کہ انہیں سلام فیاض اور ان کی حکومت کی طفل تسلیوں پر یقین نہیں ہے۔ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک سلام فیاض اقتدار سے الگ نہیں ہو جاتے۔
عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین نے بدھ کے روز ہزاروں افراد نےنیشنل اسپتال کے قریب کی تمام سڑکوں پر ٹائر جلا کر ہرقسم کی ٹریفک بند کر دی تھی۔ مظاہرین نے کئی سرکاری گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔ نذرآتش ہونے والی گاڑیوں میں فلسطینی ملیشیا کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر سلام فیاض سے اقتدار سے الگ ہونے کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین سخت مشتعل دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نےگھنٹوں سڑکوں پر دھرنا دیا اور حکومت کےخلاف نعرے بازی کرتے رہے۔
ادھر رام اللہ میں بھی ایک احتجاجی ریلی منعقد کی گئی جس میں سیکڑوں افراد نے سلام فیاض کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی گروپوں نے آج جمعرات کو بھی مغربی کنارے کے تمام شہروں میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ احتجاجی تنظیموں نے شہریوں سے حکومت مخالف مظاہروں میں بڑھ چڑھ کرشرکت کی اپیل کی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
