اسرائیل کی فوجی عدالت نے فلسطینی اسیر خاتون رہ نما بائیس سالہ افنان اسماعیل رضوان کو 07 ماہ کی قید بامشقت کی سزاء کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں
نے اسیرہ کو دی جانے والی سزاء کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم‘‘یکجہتی فاؤنڈیشن برائے انسانی حقوق’’ کی جانب سے جاری ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے تعلق رکھنے نوجوان فلسطینی سماجی کارکن افنان اسماعیل کو جمعرات سے مسلسل عوفر فوجی جیل میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ جہاں ہفتے کے روز صہیونی عدالت نے اسیرہ کو سات ماہ قید بامشقت اور سات ہزار شیکل جرمانہ ادا کرنے کی سزائیں سنائی ہیں۔ افنان پر الزام ہے کہ اس نے اسلامی تحریک مزاحمت ‘‘حماس’’ کی رکنیت اختیار کی تھی اور وہ الخلیل شہر میں تنظیم کے نیٹ ورک کے لیے کام کر رہی تھی۔
خیال رہے کہ صہیونی فوجیوں نے اسیرہ رمضان افنان اسماعیل کو 23 مئی کو الخلیل شہر میں اس کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا۔ اسے کئی ہفتے تک شمالی الخلیل میں ایک عتصیون حراستی مرکز میں رکھا گیا جہاں سے اسے بعد ازاں ھشارون جیل منتقل کر دیا تھا۔ درایں اثناء فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم یکجہتی فاؤنڈیشن نے ایک دوسری اطلاع میں خبر دی ہے کہ صہیونی فوج نے مقبوضہ فلسطین کے شہر رھط سے حراست میں لی گئی ایک دوسری خاتون نجاح امینا العتیلی کو رہا کردیا ہے۔ 49 سالہ العتیلی کو چند روز قبل اس کے گھر سے اغواء کیا گیا تھا۔ العتیلی کی ایک صاحبزادی عبیر عودہ بھی صہیونی جیل میں رہ چکی ہیں۔ عبیر کو گذشتہ برس فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کےدرمیان قیدیوں کے تبادلے کےایک معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
