مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ صبری نے صہیونی شرپسندوں کے فلسطینیوں پر تازہ حملوں کا حوالہ دیتےہوئے کہا کہ بیت المقدس کے شہریوں پر صہیونیوں کے حملے اپنی نوعیت کی سنگین وارداتیں ہیں۔ ان پر خاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ آج اگر ان یہودیوں اور شرپسند صہیونیوں کا ہاتھ نہ روکا گیا تو کل کو بیت المقدس کے مسلمان شہریوں کا وجود خطرےمیںپڑ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام اور عرب ممالک کی جانب سے خاموشی یہودیوں کو فلسطینیوں پر حملوں پر اکسانے کا موجب بن رہی ہے۔
مسجد اقصیٰ کے خطیب نے بیت المقدس میں صہیونیوں کے آئے روز فلسطینیوں کی جان ومال پرہونے والے حملوں پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ یہودی فلسطینیوں کے اس لیےدشمن ہیں کیونکہ وہ فلسطینیوں کو بیت المقدس سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں اور ان کی جگہ وہ اپنے ناپاک وجود کی اکثریت ثابت کر رہے ہیں۔ انہوں نے فلسطینیوں پر زور دیاکہ وہ یہودیوں کے مقابلے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد اور اتفاق پیدا کریں تاکہ فلسطینیوں کےخلاف صہیونیوں کے نفرت کے کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکے۔
شیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ فلسطینیوں پر انتہا پسند یہودیوں کے حملوں کے بارے میں صہیونی حکومت پوری طرح باخبر ہے لیکن فلسطینیوں کی جبری ھجرت کی راہ ہموار کرنے کے لیے قابض شدت پسند حکومت نے یہودیوں کی شرپشندیوں اور فسادات کو نظرانداز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی شرپسندی کے خاتمے کے لیے فلسطینیوں کو مل کرمقابلہ کرنا ہوگا۔ فلسطینی عوام کسی غیبی قوت کی مدد کا انتظارنہ کریں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
