اسرائیلی حکام نے اردن سے فلسطین داخل ہونے والے انسانی حقوق کے سیکڑوں کارکنوں کو داخلے سے روک دیا، جس کے بعد غیرملکی رضاکاروں نے اسرائیلی حکام کےخلاف شدید احتجاج کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اتوار کےروز72 عرب، اسلامی اور دیگرممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں کارکنوں نے اردن اور فلسطین کے درمیان شاہ حسین پل کے راستے مغربی کنارے میں پیدل داخل ہونے کی کوشش کی تو پہلے انہیں اردنی حکام نے واپس عمان بھیج دیا۔ اردنی حکام کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ وہ بسوں میں سوار ہوکر آئیں۔ وہاں بھی غیرملکی شہریوں نے اردنی حکام کے رویے کےخلاف احتجاج کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے تشدد سے ایک فرانسیسی انسانی حقوق کی خاتون کارکن زخمی ہوگئیں اور اسے اسپتال لے جانا پڑا۔
بعد ازاں گاڑیوں میں سوار ہو کر انسانی حقوق کا قافلہ مغربی کنارے میں داخل ہوا تو صہیونی ملٹری پولیس اور بارڈر فورسز نے انہیں روک لیا۔ کئی گھنٹے کی بحث اور تلخ کلامی کے بعد رضاکاروں کو انہی کی گاڑیوں میں بٹھا کر واپس اردن روانہ کردیا گیا۔ خیال رہے کہ ان دنوں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے صیہونی مظالم کا شکار فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کی ایک منفرد مہم شروع کی ہے۔‘‘ویلکم فلسطین’’ کے نام سے یہ مہم اپنی نوعیت کی دوسری مہم ہے۔ اسی طرح کی مہم گذشتہ برس بھی چلائی گئی تھی، مہم کے تحت دنیا بھرکےانسانی حقوق کے اداروں کے کارکنوں کو فلسطین لانے اور یہاں کے حالات سے آگاہی کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسرائیل اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے اس قماش کے اقدامات پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ گذشتہ برس بھی ویلکم فلسطین مہم کے تحت آنے والے سیکڑوں غیرملکی کارکنوں کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔ جو شہری فلسطین میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، ان کے ساتھ نہایت معاندانہ رویہ اپنایا گیا۔
ادھر اردنی سیکیورٹی جنرل کے میڈیا مرکز نے ایک خبر میں اطلاع دی ہے کہ اتوار کے روز فلسطین جانے والے 72 انسانی حقوق کے رضاکاروں نے ان کے پاس اپنی رجسٹریشن کرائی تھی۔ سیکیورٹی جنرل کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلسطین جانے والے غیرملکی کارکنوں کو ہرقسم کی سہولیات فراہم کی تھیں تاہم انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ عمان کی طرف سے مکمل تسلی کے باوجود اسرائیلی فوج نے انہیں شاہ حسین پل سے مغربی کنارے میں داخلے سے روک دیا ہے۔ ادھر ویلکم فلسطین مہم کی فرانسیسی چیئر پرسن‘‘اولیویا زیمون’’ اور مختلف ممالک کے سفارت کاروں نے انسانی حقوق کے کارکنوں کے مغربی کنارے میں داخلے پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے۔ اولیویا کا کہنا ہے انہیں پہلے بھی صہیونی حکومت کی انتقامی پالیسی سے اسی طرح کی توقع تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل انسانی حقوق کے رضاکاروں کو روک کر یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں غیرانسانی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ واضح رہے کہ غیرملکی انسانی حقوق کےقافلے میں فرانس،برطانیہ، اٹلی، بلیجیم، امریکا، اسپین، عرب اور اسلامی ممالک کے کارکن شامل تھے۔ ان میں آٹھ سال کی عمر سے اسی سال کی عمر کے رضاکار بھی شامل تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
