اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی القدس کو یہودی رنگ میں رنگنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ صہیونی حکام نے یہودی بستی ھارھوما میں 68 گھروں پر مشتمل نئی یہودی کالونی بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ ان گھروں کی تعمیر چھ ماہ شروع ہو کر سن 2014ء میں مکمل ہو جائے گی۔
اسرائیلی روزنامے ’’یروشیلم‘‘ نے بتایا کہ صہیونی کمپنی ’’ابیسرو موشے‘‘ اس کالونی کی تعمیر کا ٹینڈر لینے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اس سے قبل یہ کمپنی جبل ابو غنیم میں یہودی آباد کاری کے دو منصوبوں پر کام بھی کر چکی ہے جبکہ 6.3 ایکڑ اراضی پر 77 یہودی گھروں کی تعمیر کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔یہ کمپنی یہودی بستی ’’رمات راحیل‘‘ میں بھی ایک آباد کاری منصوبے پر کام کر چکی ہے۔ یہ علاقہ ارنونا کالونی کے قریب ہے جہاں پر یہودیوں کی جانب سے گھروں کی تعمیر کافی تعداد میں درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں مرکزی انتظامی امور کی عدالت گزشتہ ہفتے یہودی آبادی کاری کے اس تازہ منصوبے کے خلاف درخواست کو رد کرکے القدس بلدیہ اور اسرائیلی حکومت کی موقف کو تسلیم کر چکی تھی۔ عدالت نے شہر میں جاری دیگر منصوبوں کے ضمن میں اس منصوبے کو بھی درست قرار دے دیا تھا۔ القدس کی صہیونی بلدیہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ منصوبہ ڈیڑھ سال میں مکمل ہو جائے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
