فلسطینی مجلس قانون ساز (پارلیمنٹ) کے ڈپٹی اسپیکرڈاکٹر احمد بحر نے مصری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی سرحد کے ساتھ بند کی گئی رفح گذرگاہ کو فوری طور پر کھول دے
تاکہ دونوں طرف پھنسے شہری اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی سرحدی گذرگاہ کو کھلا رکھا جائے توغزہ کے شہریوں کو سرنگوں کے راستے اشیائے ضروریہ لانے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں ایک مسجد میں جمعہ کا خطبہ میں تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر فلسطینی اور مصری قیادت متفقہ طور پر رفح بارڈر کوکھلا رکھنے کا فیصلہ کریں تو فلسطینیوں کو سرنگوں کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی سرحد کو دونوں طرف کے شہریوں کے لیے کھلا رکھنا دو طرفہ تجارت مقاصد کے لیے بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹراحمد بحر کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان زمینی رابطے بحال کرنے کےلیے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ اور مصری قیادت کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ غزہ کی پٹی کی حکومت سرحدوں کی حفاظت کے لیے مصری حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیارہے، سرحدوں پر کشیدگی فلسطین اور مصر دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد کے خلاف ہے۔
ڈاکٹر احمد بحر نے اپنی تقریر میں گذشتہ اتوار کے روز شمالی سیناء میں دہشت گردوں کےحملوں میں سولہ مصری فوجیوں کی شہادت کی ذمہ داری صہیونی ریاست اور اس کے سیکیورٹی اداروںپر عائد کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے سرحدی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
