مرکز برائے امور اسیران، فلسطین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے زیر حراست اکیس سالہ فلسطینی خاتون اسلام حسن یحیی بشیتی کو رہا کردیا ہے۔ بشیتی کو الخلیل سے گرفتار کر کے چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی جو آج پوری ہو گئی۔
مرکز برائے امور اسیران نے بتایا کہ بشیتی الخلیل پولی ٹیکنیک کالج میں فائنل ائیر کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم بھی حفظ کر رکھا ہے۔ انہیں بیت اولا میں انکے گھر کا محاصرہ کرکے 18 اپریل 2012ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ چار ماہ قید کے ساتھ انہیں 2000 ڈالرز جرمنے کی سزا بھی دی گئی تھی۔ مرکز نے بتایا کہ صہیونی عقوبت خانوں میں اس وقت بھی 08 فلسطینی اسیرات قید ہیں۔ پہلے یہ تعداد سات تھی تاہم حال ہیں میں سترہ سالہ ھدیل طلال ابو ترکی کو الخلیل جبکہ وفا شماسنہ عطیہ، انیس سالہ، کو قلقیلیہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے، ھدیل طلال پہلے بھی اسرائیلی جیلوں میں چھ ماہ قید کاٹ چکی ہیں جبکہ وفا شماسنہ فلسطیی اسیر احمد عطیہ کی بیوی ہیں جگر کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں۔ مرکز کے مطابق بشیتی کی رہائی کے بعد صہیونی عقوبت خانوں میں تاحال موجود آٹھ فلسطینی خواتین انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ہیں۔ مرکز کا کہنا ہے کہ فلسطینی اسیرات کے معاملے سے ہر سطرح پر غفلت برتی جا رہی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
