خیال رہےکہ بیالیس سالہ فلسطینی انجینیئر ضرار ابو سیسی کو ایک دوسرے ملک سے گذشتہ برس ایک سازش کے تحت حراست میں لے کر اسرائیل لایا گیا تھا، جہاں اسے کئی ماہ تک خفیہ قید خانے میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انسانی حقوق کی تنظیموں نے انکشاف کیا کہ ضرار کو قابض یہودیوں نے اپنی جیل میں ڈال رکھا ہے اور اس پر المناک تشدد کیا جاتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین انجینیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ایسوسی ایشن کے ایک دیرینہ رکن انجینیئر ضرار ابو سیسی کی مسلسل تشدد کے باعث حالت خطرے میں ہے۔ بیان میں ضرار کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے صہیونی اقدامات کو جنگی جرائم اور عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
فلسطینی ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ زیر حراست ضرار ابوسیسی کی زندگی کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پرعائد ہوگی اورصہیونی ریاست کو اپنے جرائم کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
