فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت ‘‘حماس’’ کی حکومت کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے مصر کے دورے کے دوران صدر
ڈاکٹر محمد مرسی سے طویل مذاکرات کیے ہیں۔ مصری صدر نے کہا ہے کہ عالمی برادری اگر امن کی خواہاں ہے تو اسے فلسطینیوں کو ان کےحقوق دلانے میں مدد کرے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مصری صدر نے جمعرات کی شام فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کا ایوان صدر میں شاندار استقبال کیا۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان مسئلہ فلسطین، غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط معاشی ناکہ بندی،اسرائیل کی اسلامی مقدسات کے خلاف برپا جنگ، یہودی بستیوں کی تعمیر، مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات ، غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینیوں کے درمیان قاہرہ کی نگرانی میں جاری مفاہمتی مساعی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق مصری صدر نے فلسطینی وزیراعظم کو غزہ کے محصورین کی مدد کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین مصر کی قومی سلامتی کا حصہ ہے اور ان کی حکومت فلسطینیوں کے حقوق کودنیا کے تمام فورمز پر اٹھائے گی۔ صدر محمد مرسی نے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو میں مدد کے ساتھ ساتھ شہر میں بجلی کے بحران کے خاتمے میں مدد کی بھی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات کےبعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےاسماعیل ھنیہ نے کہا کہ مصری صدر نے ان کا جس ہمدردی اور جذبہ خیر سگالی سے استقبال کیا ہے، ماضی میں کبھی ایسا نہیں کیا گیا۔ ہمارے درمیان کم وبیش تمام اہم دو طرفہ معاملات پر مثبت بات چیت ہوئی۔ میں اپنے دورے میں ڈاکٹر محمد مرسی کو بھاری اکثریت سے ملک کا صدر منتخب ہونے اور رمضان المبارک کی مبارک باد دینے آیا تھا۔ مصری صدر کی جانب سے ہمیں محبت کا جو تحفہ دیا گیا ہے فلسطینی عوام اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
مصر کی قومی سلامتی
فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ ان کے مصر سے مطالبات میں سے ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ پابندیوں کو ختم کرانے میں مدد فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمن یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ حماس غزہ کی پٹی کو فلسطین سے الگ خود مختار ریاست بنانا چاہتی ہے، یہ غلط افواہیں ہیں جن کا مقصد حماس کو بدنام کرنا ہے۔ میں نے مصری صدر سے بات چیت میں بھی کہا ہے کہ غزہ کی پٹی فلسطینی ریاست کا حصہ ہو گی۔ اس کے بغیر فلسطینی ریاست کا کوئی وجود نہیں ہے نیز فلسطینی صحرائے سیناء کو مصر کا علاقہ سمجھتے ہیں اور اس صحراء کو فلسطینیوں کا متبادل وطن قرار دینے کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ حماس کی حکومت مصر کی قومی سلامتی کا احترام کرتی ہے اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے مصری قومی سلامتی کو نقصان پہنچے۔ اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ صدر محمد مرسی کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر اتفاق پایا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے تمام تر مسائل کا ذمہ داری اسرائیل ہے۔ مصر ایک ایسی فلسطینی ریاست کےقیام کا حامی ہےجس کا دارالحکومت بیت المقدس کو بنایا جائے اور فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں میں آباد ہونے کا موقع فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مصری صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت اہم موضوع رہا۔ اس موقع پر مصری صدر نے فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی جماعت حماس اور غزہ کی پٹی کی حکومت قومی مفاہمت کے لیے ہر ممکن لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ تاہم صدر محمود عباس کا مغرب کی جانب جھکاؤ فلسطینی اتحاد میں رکاوٹ ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
