بیت المقدس میں صہیونیوں کے تعاون سے”القدس” میلے کی تاریخ کے قریب آتے ہی فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کےخلاف متحرک ہو گئی ہیں۔
بیت المقدس میں قومی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن مندوب برائے مشر وسطیٰ رابرٹ سری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی شدت پسند لیڈر بارنبول کی قیادت میں اس ماہ کے آخر میں منعقدہ میلے کی منسوخی کا اعلان کریں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس کی سپریم کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں بیت المقدس میں صہیونیوں کی خلاف قانون سرگرمیوں پرعالمی برادری کی خاموشی کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔
کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس کی موجودہ حیثیت ایک متنازعہ علاقہ کی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اور تمام عالمی تنظیموں نے شہر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کر رکھا ہے۔
اس کے باوجود صہیونیوں اور انتہا پسندوں کو القدس میں کھلے عام اپنے میلے سجانے سے نہ روکنا افسوسناک ہے۔ القدس ایکشن کمیٹی اقوام متحدہ کے امن مندوب برئے مشرق وسطیٰ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فلسطینی شہر بیت المقدس میں یہودیوں کی یک طرفہ سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے اس ماہ کے آخر میں ہونے والے میلے کی منسوخی کا اعلان کرائیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت دانستہ طور پر بیت المقدس کی اراضی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہاں پر ملٹری کالجز تعمیر کرائے جا رہے ہیں۔ یہودیوں کے لیے معابد کا جال بچھایا جا رہا ہے، پبلک پارکس اور یہودیوں کی رہآئش کے لیے فلسطینیوں کی زمینوں پر فلیس تعمیر کرائے جا رہے ہیں۔ یہ تمام غیر قانونی اقدامات عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ اقوام متحدہ کو صہیونی ریاست کی ان خلاف قانون سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔
خیال رہے کہ تیس اوراکتیس جولائی کو مقبوضہ بیت المقدس میں ایک عالمی موسیقی میلے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ میلہ مشہور صہیونی موسیقار بارنبویم کی میزبانی میں ہوگا جسے میلہ برائے دیوان مشرقی و مغربی کا نام دیا گیا ہے۔ فلسطین میں انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں نے بھی اس میلے کے انعقاد کو عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے لیے ایک سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
