اسرائیل نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس سے نوے ہزار اصلی باشندوں کووہاں سے نکال کر ان کی جگہ یہودیوں کو بسانے کی ایک نئی اسکیم تیار کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی اخبار”ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ نے فلسطینی آبادیوں سے متعلق دفاتر کو شہر میں تعمیر کی گئی نسلی دیوار کے باہر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی شروع کی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد بیت المقدس میں آباد ہزاروں فلسطینی باشندوں کو شہر سے نکال کر باہر منتقل کرنا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ اس وقت بیت المقدس میں تعمیر کردہ نسلی دیوار کے اندر کم سے کم نوے ہزار سےایک لاکھ کے قریب فلسطینی آباد ہیں۔ فلسطینی آبادیوں کے اندر ہونے کی وجہ سے صہیونی حکومت کی طرف سے انہیں سخت نوعیت کی مشکلات اور پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ ان بستیوںمیں بعض فلسطینیوں کے مہاجر کیمپ بھی قائم ہیں۔ ان میں شعفاط کیمپ، راس الخمیس، السلام کالونی اور دیگر مقامات اس اعتبار سے نہایت خطرے میں ہیں کیونکہ اسرائیلی حکومت ان مقامات کو خالی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور یہاں پرآباد ہزاروں فلسطینیوں کو دیوار سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کےمطابق مقبوضہ بیت المقدس میں دیوار کے اندر واقع بسیتوں کی حالات زار اس حد تک خراب ہے اس کے باوجود صہیونی حکومت کی طرف سے ان بستیوں کی انفراسٹرکچر ان کی معیشت کی بہتری کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
