فلسطین کےتاریخی شہربیت المقدس میں قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کا رجحان تیزی پکڑتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی مقامی تنظیموں نے مکانات کی مسماری پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے صہیونی ریاست کی فلسطینیوں کے خلاف جاری دہشت گردی کا حصہ قرار دیتے ہوئے جبری شہر بدری کی مجرمانہ سازش سے تعبیر کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں اسلامی و مسیحی کمیٹی برائے تحفظ مقدسات کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حنا عیسیٰ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایک مجرمانہ سازش کے تحت بیت المقدس میں فلسطینیوں کی املاک خصوصا مکانات کو غیرقانونی قرار دینے کی آڑ میں گرانے کی سازش میں مصروف ہے اس سازش کا اصل محرک اور مقصد مقدس شہر کو فلسطینیوں کے وجود سے خالی کرنا ہے۔
بیت المقدس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈاکٹر حنا نے کہا کہ فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری انہیں اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔ قابض صہیونی حکومت کی جانب سے شہر کے اصلی باشندوں کےخلاف صہیونی ریاست کی یہ سازش سنہ 1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے چلی آ رہی ہے اور اب اس سازش میں روز افزوں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں فلسطینی سماجی رہ نما نے کہا کہ بیت المقدس میں شہر کےا صلی باشندوں کی املاک اور مکانات کو بچانے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ فلسطینی عوام اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی املاک کی مسماری کے خلاف سڑکوں پرکھل کر احتجاج کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل جس تواتر اور تیزی کے ساتھ مکانات کی مسماری جاری رکھے ہوئے ہے وہ کسی بڑی سازش سے کم نہیں ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
