فلسطینی اسیران امور و انسانی حقوق کے مطالعاتی ادارے نے ریڈ کراس تنظیم سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید
فلسطینی اسیران کی حالت درست کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ صہیونی حکام نے ماہ صیام میں اسیران پر مظالم بڑھا دیے ہیں۔
مرکز کے میڈیا سیل کےڈائریکٹر ریاض اشقر نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکام رمضان کے دوران قیدیوں پر تکالیف بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے خلاف دردناک سلوک کیا جائے گا، صہیونی انتظامیہ فلسطینی ہر دلعزیز لیڈران کو طرح طرح کی تکالیف پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہیں جس میں انہیں اپنے رشتہ داروں کی ملاقاتوں سے بھی روکا جائیگا۔ اسی طرح جیلوں میں قیدیوں کو اجتماعی طور پر عبادت ادا کرنے سے بھی روکا جائیگا۔ اونچی آواز سے دینی درس اور وعظ کہنے پر پابندی ہوگی اسی طرح عام کھانوں کے ساتھ افطاری کیلئے کوئی خصوصی کھانا پکانا ممنوع ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی جیلوں میں سیکڑوں اسیر قید تنہائی میں پڑے ہیں جو سحر اور افطار کرنے سے بھی محروم ہیں، اسی طرح ان کو کھانے پینے کی وافر مقدار بھی میسر نہیں۔ اسرائیلی حراستی مرکز اور قید خانوں میں فلسطینی اسیران سحر اور افطار کے اوقات معلوم کرنے سے محروم ہیں۔ ان قید خانوں میں سورج کی روشنی نہ پہنچنے کی وجہ سے یہاں دن اور رات برابر ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
