اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی حکومت کے ایک اعلی عہدیدار کا کہنا اسرائیل کے پاس فلسطینی اتھارٹی کو مذاکرات بحال کرنے پر راضی کرنے کے لیے بہت سی ترغیبی عوام موجود ہیں۔
اسرائیل نے فلسطینی صدر کی جانب سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔
یاد رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی حکام کے مابین مذاکرات ستمبر 2010 میں اس وقت معطل ہوگئے تھے جب فلسطینی اتھارٹی کےمطالبے کے باوجود اسرائیل نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر شروع کردی تھی۔ جس کے بعد سے اب تک دونوں جانب سے مذاکرات دوبارہ بحال نہ ہوسکے ہیں۔
اسرائیلی اعلی عہدیدار نے واضح طور پر کہا کہ ’’ہم فلسطین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں، تاہم ہمیں اس بات پر شدید افسوس ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں فلسطینی اتھارٹی نے یکطرفہ طور پر اقوام متحدہ کی رکنیت کے لیے اقدام اٹھایا تھا۔ ادھر اسرائیل کو اس وقت مزید دھچکا لگا جب یہ رپورٹس منظر عام پر آئیں کہ فلسطینی اتھارٹی غیر وابستہ ممالک کی تہران کانفرنس میں شرکت کا ارادہ رکھتی ہے‘‘
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
