فلسطینی وزارت امور اسیران نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی ایک جیل زیر حراست فلسطینی اکرم الریخاوی تین ماہ کی مسلسل بیماری کی وجہ سے تشویشناک حالت میں ہیں۔
انہوں نے گذشتہ تین ماہ سے بھوک ہڑتال بھی جاری رکھی ہوئی ہے جس کے باعث ان کی زندگی اور بھی زیادہ خطرے میں پڑ چکی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت امور اسیران کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے اسیر الریخاوی نقل وحرکت کے قابل بھی نہیں رہے ہیں۔ وزار اسیران نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھوک ہڑتالی اور مریض اسیر کی فوری رہائی کے لیے صہیونی ریاست کے لیے دباؤ ڈالیں۔
خیال رہے کہ اسیر الریخاوی کو صہیونی فوج نے سنہ دو ہزار چار کو غزہ کی پٹی کے سرحدی علاقے رفح سے حراست میں لیا تھا۔ ان پر فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ تعلق کا الزام ہے اور عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ گذشتہ چورانوے روز سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس کے باعث ان کے جسم میں نقاہت ہے اور وہ چل پھر نہیں سکتے ہیں۔
درایں اثناء انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی الریخاوی کی مسلسل بھوک ہڑتال پر صہیونی حکومت کی طرف سے غفلت کے ارتکاب پر کڑی تنقید کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی الریخاوی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
