اسرائیلی فوج نے ایک سال پیشتر اپنے سپاہی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ساتھ ایک ڈیلنگ کے تحت رہا کیے گئے فلسطینی شہری چونتیس سالہ سامرطارق العسیاوی کودوباہ گرفتار کر لیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےنامہ نگار کے مطابق العیساوی کی گرفتاری مقبوضہ بیت المقدس میں العیسویہ کے مقام پر ان کے گھر سے عمل میں لائی گئی۔
طارق العیساوی کی ہمشیرہ اور محروس کی وکیل شیرین العیساوی نے میڈیا کو بتایا کہ صہیونی فوج نے اس کے بھائی کو ہفتےکے روز گھر سے اٹھا لیا، ان کی گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اور نہ ہی یہ معلوم کیا جا سکا ہے کہ آیا العیساوی کو کہاں منتقل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سامی طارق العیساوی کو یہودیوں کےخلاف حملوں پر اکسانے کے الزام میں تیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم حماس کے ساتھ ایک ڈیلنگ کے بعد صہیونی حکومت نے اس کی سزا معاف کرتے ہوئے اسے رہا کردیا تھا۔ طارق کی رہائی کے ساتھ فلسطین کے ایک ہزار ستائیس اسیران کو رہا کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوجیوں نے اس معاہدے کے تحت رہا کیے گئے فلسطینیوں کو دوبارہ سے گرفتار کرنےکا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
