فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کے سیاسی مشیر ڈاکٹر یوسف رزقہ کا کہنا ہے کہ غزہ کے وزیر اعظم کی کابینہ میں جلد تبدیلی کر دی جائیگی،
تاہم اس تبدیلی کی کوئی تاریخ کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی محض معمول کی کارروائی ہے جس کا فلسطینی مفاہمت سے کوئی تعلق نہیں۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رزقہ نے بتایا کہ حکومت کے وزراء میں تبدیلی کرنے کا ارادہ تو ضرور ہے تاہم وزراء کے نام یا وقت کے بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں اتوار کے روز کابینہ میں تبدیلی کی پیش گوئی کرنے والی الیکٹرانک میڈیا میں نشر ہونے والی خبریں درست نہیں۔
وزیر اعظم کے سیاسی مشیر کا کہنا تھا کہ حکومتی کابینہ میں تبدیلی کو ڈیڑھ سال بیت چکا ہے۔ حالیہ تبدیلی صرف ایک معمول کی سرگرمی ہو گی جس کا فلسطینی مفاہمت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس ضمن میں پہلے سے کوئی فیصلہ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس وقت فلسطینی مفاہمت ہوگی تو ساری کابینہ ہی مستعفی ہو جائے گی اور پھر نئی کابینہ حلف لے گی۔ چنانچہ جب کبھی فلسطینی جماعتوں میں مفاہمت پایہ تکمیل کو پہنچے گی، غزہ کی حکومت کو ختم کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
