اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز فلسطینی مجلس قانون ساز کے دو اراکین ڈاکٹر محمود الرمحی اور انزار رمضان کو طویل انتظامی حراست کے بعد رہا کردیا ہے۔
ڈاکٹر الرمحی کا تعلق مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے جبکہ نزار رمضان کا الخلیل شہر سے ہے۔ دونوں اسیران ڈیڑھ سال سے صہیونی جیلوں میں بغیر کسی الزام کے قید کاٹ رہے تھے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق دونوں سابق اسیر اراکین قانو ساز کونسل کے اہل خانہ نے رہائی کی تصدیق کی ہے۔ رام اللہ میں ڈاکٹر محمود الرمحی کے اہل خانہ نے بتایا کہ ڈاکٹر رمحی جمعرات کی شام اپنے گھر پہنچ گئے تھے جہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ انہیں قابض فوج نے دس ستمبر دو ہزار دس کو حراست میں لیا تھا۔ اس کے بعد چھ ماہ کے بعد ان کی انتظامی حراست میں تین دفعہ توسیع کی گئی ہے۔
دوسرے رکن اسمبلی نزار رمضان کو سات نومبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں بھی ڈیڑھ سال سے صہیونی جیلوں میں رکھا گیا۔ دونوں اسیران نے قید کے زیادہ ایام صحرائے نقب کی جیل میں کاٹے تاہم کچھ عرصہ عسقلان اور دوسری جیلوں میں بھی گذارا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین میں 2006ء میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہونے والے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے دسیوں اراکین کو حراست میں لے لیا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے ان اراکین قانون ساز کونسل کو صہیونی ریاست کے لیے سیکیورٹی ریسک قرار دیا اور چالیس سے زائد اراکین کو پکڑ لیا گیا تھا۔ اب بھی کم سے کم پندرہ اراکین اسمبلی صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ ان پر کسی قسم کا مقدمہ بھی نہیں چلایا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
