فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے زور دے کر کہا ہے کہ غزہ میں ان کی حکومت نے انتہائی کٹھن حالات کے باوجود بھرپور انداز میں کام کیا اور اپنی کارکردگی سے دیگر حکومتوں کے لیے ایک عملی نمونہ قائم کر دیا ہے۔
سنہ 2011ء کے لیے حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پر درج اپنی آراء میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی وزارتوں کے لیے حالات سازگار ہوتے تو ان کی کارکردگی اس سے بھی کئی گناہ بہتر ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ انکی حکومت تمام شعبوں میں اپنے ہم وطنوں کے مصائب کم کرنے اور انہیں بہتر سہولتیں فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرتی رہیگی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سالانہ رپورٹ میں پیش کی گئی معلومات کو غور سے پڑھا، رپورٹ کے مطابق حکومت کی تمام وزارتوں اور محکموں نے اسرائیلی انسانیت سوز محاصرے اور دیگر مشکلات کے باوجود اپنی استطاعت سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
حکومت کو صہیونی محاصرے، تعمیرات کے لیے میٹریل کی کمی، داخلی اور خارجی محاذ پر چیلنجز، صہیونی دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کو اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں اور حملوں سے بچاتے ہوئے زندگی کی بنیادی سہولیات فراہما کرنا تھیں۔ ابتر امن و امان، قانون کی پاسداری، تنازعات کا فیصلہ، سیاسی اور میڈیا کی آزادیاں، انسانی حقوق کے تحفظ کی حمایت، اقتصادی، زرعی اور سماجی مشکلات کا مقابلہ، بے روزگاری، بجلی کے بحران، شعبہ تعلیم و صحت کی ابتر صورتحال، ملازمین کی تنخواہوں میں رکاوٹ، غزہ کے ساحل پر درپیش خطرات، سڑکوں کی تعمیر نو اوراس جیسے متعدد دیگر مسائل کا حکومت سے بڑی جرات اور بہادری سے مقابلہ کیا۔
اس موقع پر وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے اپنی حکومت کے تمام محکموں اور وزارتوں کو طرح طرح کے مصائب و آلام میں بھی حیران کن طور پر بہتر کارکردگی پر مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ یہ سارے محکمے ہم وطنوں کی فلاح و بہبود کے لیے اسی طرح کام کرتے رہیں۔ انہوں نے غزہ کے ظالمانہ محاصرے کے خاتمے اور شہداء کی مغفرت کے لیے بھی دعا کی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
