• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

القدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے 171 گھر تعمیر کرنے کی اجازت

ہفتہ 30-06-2012
in فلسطین
0
plf 71_houses
0
SHARES
3
VIEWS

اسرائیلی ہاؤسنگ وزارت کی جانب سے مقبوضہ مشرقی القدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے 171 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کے لیے تین اجازت نامے جاری کردیے گئے ہیں۔

ان میں جبل ابو غنیم میں یہودی آباد کاری کے جاری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 130 گھروں کی تعمیر کا پروانہ بھی شامل ہے۔ 1967ء سے اسرائیلی زیر تسلط مشرقی القدس میں یہودی آباد کاری پر نظر رکھنے والے احمد صب نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ایک رہائشی منصوبے میں القدس کی وہ 11 ایکڑ اراضی استعمال میں لائی جائے گی جس پر اسرائیلی فوج نے بیت ساحور اور صور باھر کے رہائشیوں کو ہجرت پر مجبور کرکے قبضہ کیا تھا۔

’’یہودیوں کے لیے اعلان کردہ بقیہ گھروں جن کے لیے دو اجازت نامے جاری کیے گئے کے لیے القدس کی شمالی یہودی بستی ’’بیسغات زئیف‘‘ میں توسیع کی جائے گی۔ اسرائیلی وزارت نے دو اجازت ناموں کے ذریعے 23 اور 18 گھروں کی تعمیر کی ہدایت جاری کردی ہے۔ اس طرح اس منصوبے میں کل 41 نئے رہائشی یونٹس تعمیر ہونگے۔ احمد صب کے مطابق اس منصوبے میں شعفاط اور بیت حنینا کی چھینی گئی 308 ایکڑ اراضی استعمال ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ یہودی گھروں کی تعمیر کے حالیہ اجازت نامے بھی القدس کو اپنے اطراف کے علاقوں سے علیحدہ کرنے کے صہیونی منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیلی پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی مشرقی القدس میں بالعموم اور جنوبی القدس میں بالخصوص ہزاروں یہودی گھروں کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوری دے چکی ہے۔ ان منصوبوں میں یہودی بستی ’’گیلو‘‘ میں 2400 گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی مشرقی القدس میں بالعموم اور جنوبی القدس میں بالخصوص ہزاروں گھروں کی تعمیر کے منصوبے منظور کر چکی ہے، اس میں گیلو کی یہودی بستی میں 2400 مکانات کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
گیلو اور جبل ابو غنیم نامی یہودی بستیوں کی درمیان 2400 گھروں کی آبادی اسی طرح دونوں بستیوں میں توسیع کرتے ہوئے بیت ساحور کی جانب 940 گھروں کی تعمیر سے ان بستیوں کے درمیان موجود خلا پر ہو جائے گا۔

یہودی بستیوں کی تعمیر کے تجزیہ کار نے بتایا کہ اسرائیل نے مشرقی القدس کو دیگر فلسطینی شہروں سے علیحدہ کرنے کے لیے یہاں پر یہودی آباد کاروں کے لیے تعمیرات میں تیزی کردی ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967ء میں مشرقی القدس پر قبضہ کیا تھا اور 1980 میں مغربی اور مشرقی القدس کو ملا کر متحدہ القدس کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ اسرائیلی دعوے کو مسترد کرکے مشرقی القدس کو مقبوضہ علاقہ قرار دیتی ہے۔

تاہم اسرائیل نے اب مشرقی القدس میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور مسجد اقصی سمیت یہاں موجود تمام اسلامی مقدسات کی شناخت مسخ کرکے شہر کو یہودی رنگ میں رنگنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ القدس کو مغربی کنارے سے علیحدہ کرنے کے لیے ایک جانب صہیونی ریاست نے شہر کو نسلی دیوار کے ذریعے مغربی القدس سے ملانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تو دوسری جانب القدس کو مغربی کنارے سے الگ کرنے کے لیے یہودی بستیوں کی تعمیر بھی مسلسل جاری ہے۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.