فلسطین میں جمعہ کے روز مغربی کنارے میں اسرائیل کی نسلی دیوار اور یہودی بستیوں کے خلاف ہونےوالے احتجاجی مظاہرے فلسطینی اتھارٹی کےخلاف احتجاج میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
جمعہ کے روز مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں مظاہرین نے صدر محمود عباس اور اسرائیل کے نائب وزیراعظم شاؤل موفاز کے درمیان رام اللہ میں کل اتوار کو ہونے والی ملاقات کے خلاف ریلیاں نکالیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ، الخلیل، قلقیلیہ، بیت لحم اور فلسطین کے دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں شہریوں نے صدر عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی جنگی مجرم اور فلسطینیوں کے قاتل نائب وزیراعظم کا استقبال کرنے سے انکار کر دیں۔
عینی شاہدین کے مطابق رام اللہ کے قریب النبی صالح کے مقام پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران عین الماء کے مقام پر یہودی آباد بھی جمع تھے۔ اس موقع پر فلسطینی مظاہرین نے یہودی آباد کاروں کو وہاں سے مار بگایا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر ‘‘شاؤل موفاز قاتل اور مجرم’’۔ فلسطینی صدر مجرم کا استقبال کرنے سے انکار کریں جیسے نعرے درج تھے۔ قابض صہیونی فوج نے النبی صالح میں فلسطینیوں کے احتجاجی جلوس پر اشک آور گیس کے گولےفائر کیے اور لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔صہیونی فوج کے تشدد کے باوجود فلسطینیوں کی احتجاجی یلی عین الماء تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی جہاں یہودیوں نے فلسطینیوں کی اراضی غصب کر دی تھی۔ فلسطینی مظاہرین نے انہیں وہاں سے نکال دیا۔
ادھربلعین اور نعلین کے مقامات پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کے تشدد سے کئی افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ آنسو گیس کی شیلنگ سے بھی درجنوں افراد بھی متاثر ہوئے۔ ادھر الخلیل اور وادی اردن میں بھی فلسطینیوں کے مظاہروں میں اسرائیل کے نائب وزیراعظم کے دورہ رام اللہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین نے فلسطینی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی دشمن کو رام اللہ میں داخل ہونے پر گرفتاری کا حکم جاری کریں۔ الخلیل کے احتجاجی جلوس پر بھی صہیونی فوجیوں کے تشدد سے ایک انیس سالہ شہری زخمی ہو گیا جبکہ آنسو گیس کی شیل لگنے اور زہرآلود دھوئیں کے باعث کئی شہری دم گھٹنےسے متاثر ہوئے۔
مغربی کنارے میں ہفتہ وار احتجاج منظم کرنے والی مقامی رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ وہ آج ہفتے اور کل اتوار کو بھی رام اللہ اتھارٹی کےخلاف صہیونی نائب وزیراعظم کے استقبال کرنے پر احتجاج کریں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
